پاکستان کی حدود سے افغانستان میں فوج کے داغے گئے راکٹوں سے چھے افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افغانستان کے مشرقی صوبہ کنڑ کے سرحدی علاقے میں ہفتے کوعلی الصباح پاکستانی فورسز نے راکٹ داغے ہیں جس کے نتیجے میں پانچ بچے اور ایک خاتون ہلاک ہو گئی ہے۔

گذشتہ سال افغانستان میں طالبان کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان نے الزام لگایا ہے کہ جنگجو گروہ افغان سرزمین سے اس کی فورسزپر حملے کر رہے ہیں۔

طالبان پاکستانی جنگجوؤں کو پناہ دینے سے انکارکرتے ہیں لیکن وہ اسلام آباد کی طرف سے 2700 کلومیٹر طویل سرحد پرباڑلگانے پرنالاں ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی لکیر ڈیورنڈ لائن کے نام سے معروف ہے اور یہ انیسویں صدی کے آخر میں نوآبادیاتی دور میں کھینچی گئی تھی۔

افغان صوبہ کنڑ میں ایک سرکاری عہدہ دار اوررہائشی نے بتایاکہ پاکستانی فورسز نےعلی الصباح راکٹ داغے ہیں جس سے چھے افراد مارے گئے ہیں۔ضلع شیلتن کے مکین احسان اللہ نے بتایا کہ یہ حملہ پاکستانی فوجی طیاروں نے کیا ہے۔انھوں نے ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کی ہے۔

افغان حکومت کے ایک اورعہدہ دار نے بتایا کہ سرحد کے قریب صوبہ خوست میں بھی صبح سے پہلے اسی طرح کا حملہ کیا گیا تھا۔انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستانی ہیلی کاپٹروں نے صوبہ خوست میں ڈیورنڈ لائن کے قریب چار دیہات پر بمباری کی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ صرف عام شہریوں کے گھروں کواس حملے میں نشانہ بنایا گیا اور ہلاکتیں ہوئی ہیں۔تاہم انھوں نے مزید تفصیل پیش نہیں کی ہے۔

خوست سے تعلق رکھنے والے ایک افغان قبائلی بزرگ گل مرخان نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔

پاکستانی فوجی حکام فوری طور پر تبصرے کے لیے دستیاب نہیں تھے اور کابل میں طالبان حکومت کے ترجمان نے اے ایف پی کے رابطہ کرنے پرکسی قسم کے تبصرے سے انکار کیا ہے۔

دریں اثناء افغان وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ اس نے ان تازہ واقعات کے بعد کابل میں متعیّن پاکستانی سفیر کو طلب کیا تھا۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان واقع دشوارگذار سرحدی پہاڑی علاقے میں طویل عرصے سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسے جنگجواوردہشت گرد گروہوں کا گڑھ رہے ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے جنگجو افغانستان کے سرحدی علاقوں میں روپوش ہیں۔

افغان طالبان اور ٹی ٹی پی دونوں ممالک میں الگ الگ گروہ ہیں لیکن سرحد کے دونوں طرف آباد پٹھان قبائل کی آل اولاد نوجوان طالبان کی صفوں میں بھی شامل ہیں اور بعض جنگجو ٹی ٹی پی کا حصہ ہیں اور یہی پاکستانی جنگجوملک کی سکیورٹی فورسز یا سرکاری تنصیبات پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

جب سے طالبان نے افغانستان میں اقتدارپرقبضہ کیا ہے،کالعدم ٹی ٹی پی کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور اس نے پاکستانی افواج کے خلاف باقاعدہ حملے شروع کررکھے ہیں۔فروری میں افغانستان سے ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی فائرنگ سے پاکستان کے سرحدی علاقے میں چھے فوجی شہید ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں