پریانتھا کمارا قتل کیس:انسدادِدہشت گردی عدالت کا6 افرادکوسزائے موت،9 کوعمرقیدکاحکم

مقدمے میں نامزد 72 دیگرافراد کو دو،دو سال اورایک مجرم کو پانچ سال قید کاحکم جبکہ ایک کو برّی کردیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

صوبہ پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی)نے پیر کو سری لنکا کےشہری پریانتھا کمارا کے مشہور مقدمۂ قتل کا فیصلہ سنا دیا ہے اوراس گھناؤنے جرم میں ملوّث چھے مجرموں کوسزائے موت اور نو کو عمر قید کا حکم دیا ہے۔

محکمہ استغاثہ پنجاب کے سیکرٹری ندیم سرور نے لاہور میں منعقدہ پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ اس کیس میں نامزد 72 دیگرافراد کو دو،دو سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، ایک شخص کو پانچ سال قید جبکہ ایک کو برّی کردیا گیا ہے۔

پریانتھا کمارا کو 3 دسمبر2021ء کو سیال کوٹ میں واقع ایک فیکٹری کے ملازمین سمیت سیکڑوں مشتعل افراد نے بہیمانہ انداز میں قتل کردیا تھا۔ہجوم نے اسے پہلے تشدد کا نشانہ بنا کر جان سے مارا تھا اور بعد میں اس کی لاش جلا دی تھی۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کی تفصیل کے مطابق چھے مجرموں کو دومقدمات میں سزائے موت سنائی گئی ہے اور انھیں مقتول کے قانونی وارثوں کو معاوضے کے طور پر دو ،دو لاکھ روپے بھی ادا کرنا ہوں گے۔

عدالت نے نو مجرموں کوعمرقید کی سزا سنائی ہے اوران پر دو، دولاکھ روپے جرمانہ عاید کیا ہے۔انھیں جرمانے کی اس رقم کے علاوہ مقتول کے قانونی وارثوں کو معاوضے کے طور پرمزید دو، دو لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔72مجرموں کو تین مقدمات میں دو،دو سال اور دو مقدمات میں ایک ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ایک مجرم کو پانچ سال قید کی سزاسنائی گئی ہے اور عدالت نے اس کیس میں ماخوذ ایک شخص کو بری کردیا ہے۔

مقتول پریانتھاکمارا سیال کوٹ وزیرآباد روڈ پر واقع راجکو انڈسٹریز میں مینجر کے طور پر کام کرتا تھا۔اس کے نزدیک واقع تھانہ اگوکی کےاسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) ارمغان مقیت کی درخواست پر راجکو انڈسٹریز کے 900 کارکنوں کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 297، 201، 427، 431، 157، 149 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی 7 اور 11 ڈبلیو ڈبلیو کے تحت ابتدائی اطلاعات رپورٹ درج کی گئی تھی اور اس کے بعد اس واقعے میں ملوث متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اس واقعے پر پاکستان بھر میں بڑے پیمانے پرغم وغصہ کا اظہار کیا گیا تھااوراس سری لنکن شہر کے اندوہ ناک قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی تھی۔ سیاست دانوں، علماء اور سول سوسائٹی کے ارکان نے مجرموں کو فوری سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

ندیم سرور نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ استغاثہ کی ٹیم نے ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنے کے لیے مجموعی طور پر 43 گواہ پیش کیے۔اس کے علاوہ جرم کے ثبوت میں فرانزک، آڈیو اور ویڈیو شواہد بھی استعمال کیے گئے۔

ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں استغاثہ نے گواہوں کی شہادتیں مکمل کیں۔ اس کے بعد عدالت نے انھیں اپنے دفاع کا پورا موقع دیا اور آج گوجرانوالہ کی انسداددہشت گردی کی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر 88 ملزمان کو سزا کا حکم دیا ہے جبکہ ایک کو بری کردیا ہے۔

اے ٹی سی نے 12 مارچ کو 89 افراد پر فرد جرم عاید کی تھی۔ پولیس کی جانب سے جمع کرائے گئے چالان کے مطابق ملزمان میں سے 80 بالغ ہیں جبکہ ان میں سے نو نابالغ ہیں۔

واضح رہے کہ انسداددہشت گردی عدالت گوجرانوالہ کی جج نتاشا نسیم نے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں ملزموں کے خلاف اس مقدمے کی سماعت کی ہے۔ملزمان کے بیانات ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 342کے تحت ریکارڈ کیے گئے تھے۔

مقدمے کی سماعت کے دوران میں سینئر اسپیشل پراسیکیوٹرعبدالرؤف وٹو سمیت استغاثہ کی جانب سے پانچ وکلاء پیش ہوئے۔استغاثہ نے 46عینی شاہدین کو چالان کا حصہ بنایا تھا۔چالان کے مطابق ویڈیوز، ڈیجیٹل شواہد، ڈی این اے اور فرانزک شواہد کو تفتیش کا حصہ بنایا گیا۔اس میں بتایا گیا ہے کہ فیکٹری میں موجود 10 ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈرز کی فوٹیج فرانزک تجزیے کے لیے بھیجی گئی تھی جبکہ مشتبہ ملزمان کا سراغ سوشل میڈیا سے ویڈیوز اور 55 ملزمان کے موبائل فونز سے برآمد ہونے والی فوٹیج کے ذریعے لگایا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں