وزیراعظم شہباز شریف کا عمران خان کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی فول پروف سکیورٹی یقینی بنانے کا حکم دیا ہے جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے وزارت داخلہ نے سابق وزیراعظم کی سکیورٹی کیلئے سخت حفاظتی اقدامات کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

جمعرات کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عمران خان کو سکیورٹی تھریٹ کی اطلاع پر وزارت داخلہ کو فوری اور موثر اقدامات کرنے کی سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کو ذاتی طور پر نگرانی کرنے اور احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کا حکم دیا ۔

وزیراعظم کے احکامات پر وزارت داخلہ فوری طور پر حرکت میں آ گئی ہے اور چاروں صوبوں کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ہوم سیکرٹریز کو ہنگامی خط ارسال کیا گیا ہے جس میں عمران خان کیلئے سخت حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

وزارت داخلہ نے آئی جی اور چیف کمشنر اسلام آباد کو بھی اس سلسلے میں ضروری ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اپنے ہنگامی مراسلے میں وزارت داخلہ نےکہا ہے کہ ملک بھر میں عمران خان جہاں بھی جائیں ان کی سخت سکیورٹی یقینی بنائی جائے۔

وزارت داخلہ نے عمران خان کی بنی گالہ رہائشگاہ پر بم ناکارہ بنانے سمیت دیگر ضروری سکیورٹی اقدامات یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔

وزارت داخلہ نے انتباہ کیا ہے کہ عمران خان کے جلسے، جلوس اور عوامی سرگرمیوں کے دوران سکیورٹی سے متعلق کوئی غفلت اور کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

یاد رہے کہ عمران خان آج لاہور کے مینار پاکستان میں تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کریں گے تاہم اس جلسے کے حوالے سے لاہور کی انتظامیہ نے سیکیورٹی الرٹ جاری کیا ہے۔

گزشتہ روز لاہور کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عطیب سلطان نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو خط لکھ کر سابق وزیر اعظم عمران خان کو لاحق ’شدید خطرات کے الرٹ‘ کے سبب جمعرات کو لاہور میں ہونے والے پارٹی کے جلسے سے ورچوئل خطاب کرنے کی تجویز دی تھی۔

پی ٹی آئی پنجاب کے صدر شفقت محمود، پی ٹی آئی لاہور کے صدر شیخ امتیاز محمود، پی ٹی آئی پنجاب کے جنرل سیکریٹری زبیر نیازی اور ریلی کے منتظم علی وڑائچ کو لکھے گئے خط میں ان سے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے بروقت کارروائی کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

ڈپٹی کمشنر آفس سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں عطیب سلطان نے لکھا تھا کہ سکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے موصول ہونے والے شدید تھریٹ الرٹس اور ضلعی اور صوبائی سطح پر کی گئی تازہ ترین انٹیلی جنس تشخیص کی روشنی میں یہ سفارش کی جاتی ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان 21اپریل 2022 کو لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں عملی طور پر جانے کے بجائے ویڈیو کانفرنس اور ایل ای ڈی ڈسپلے کے ذریعے عوامی اجتماع سے خطاب کریں۔

خط کا جواب دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے ایڈیشنل سیکریٹری اطلاعات حسن خاور نے ڈان نیوز کو بتایا تھا کہ حکومت کے اس طرح کے ہتھکنڈوں سے پارٹی کی حوصلہ شکنی نہیں ہو گی۔ حسن خاور نے کہا تھا کہ حکومت کو پی ٹی آئی کی مہم سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی چیئرمین لاہور کے جلسے میں شرکت کریں گے اور پارٹی عوام سے رابطہ قائم کرنے کی مہم جاری رکھے گی۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے حکومت سے بے دخل کیے جانے کے بعد جلسوں کا اعلان کیا تھا اور 13 اپریل کو پشاور میں پہلا جلسہ کیا تھا جہاں عوام کی بڑی تعداد جمع ہوئی تھی۔ پی ٹی آئی نے پشاور کے بعد 16 اپریل کو کراچی میں بڑا جلسہ کیا تھا اور عمران خان نے خطاب کیا تھا۔

پی ٹی آئی نے اگلا جلسہ آج (21 اپریل) کو لاہور کے مینار پاکستان میں شیڈول کر رکھا ہے، جہاں سابق وزیراعظم عمران خان خطاب کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں