کراچی یونیورسٹی میں خاتون کا مبینہ خود کش حملہ، تین چینی اساتذہ سمیت چار افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جامعہ کراچی میں ایک وین پر کیے جانے والے خود کش حملے کے نتیجے میں تین چینی باشندوں سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق ایک بلوچ علحیدگی پسند تنظیم نے اس دھماکے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ دھماکا ایک خاتون خود کش حملہ آور کے ذریعے کروایا گیا۔

یونیورسٹی کے ترجمان محمد فاروق کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں ایک اور چینی شہری اور ان کے ساتھ موجود ان کا سکیورٹی گارڈ بھی زخمی ہوئے ہیں۔

کراچی کے پولیس چیف غلام نبی میمن کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ ایک خود کش حملہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ کلوز سرکٹ ٹیلی وژن فوٹیج میں چادر میں ملبوس ایک خاتون کو وین تک جاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، جس کے بعد ایک فوری دھماکا ہوا۔

ہلاک ہونے والوں میں چینی کنفوشیس زبان سکھانے والے ادارے کے ڈائریکٹر بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق بلوچستان کے ایک آزادی پسند مسلح گروہ بلوچ لبریشن آرمی نے چینی شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے یہ حملہ کیا۔

حملے کے بعد اس تنظیم کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ حملہ بی ایل اے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے کیا ہے جس کا نام شاری بلوچ عرف برمش ہے۔ یہ حملہ آور خاتون مبینہ طور اس گروہ کی پہلی خاتون خود کش حملہ آور تھی۔

بلوچستان طویل عرصے سے مسلح بلوچ گروپوں کی علیحدگی پسند تحریکوں کا گڑھ رہا ہے۔ ان تحریکوں کا بنیادی مقصد خطے کے قدرتی وسائل میں زیادہ خود مختاری اور منصفانہ تقسیم ہے۔

پاکستان میں ہزاروں چینی باشندے کئی ترقیاتی پراجیکٹس پر کام کر رہے ہیں جن میں سب سے نمایاں سی پیک پراجیکٹ ہے۔ اس کا ایک حصہ ہے جسے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں بنیادی ڈھانچے اور بجلی کے متعدد منصوبے شامل ہیں۔ اس پراجیکٹ پر کام کرنے والے چینی شہریوں پر اس سے قبل بھی بلوچ علاحدگی پسندوں کی جانب حملے کیے جا چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں