.

’’پاک ۔ سعودی تعلقات کو گہری سٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’’پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات کو گہری اور سٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کا خواہاں ہے۔ دونوں ممالک اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری روابط کے فروغ کے لئے نئے اور غیر روایتی شعبوں پر کام کر رہے ہیں۔‘‘

’’پاکستان کے روس اور یوکرین کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، کثیر طرفہ معاہدوں، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت تنازعہ کا سفارتی حل ناگزیر ہے۔‘‘ ان خیالات کا اظہار پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے انگریزی اخبار عرب نیوز کو ایک انٹرویو میں کیا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’اے پی پی‘‘ نے انٹرویو کے حوالے سے جاری کردہ خبر میں بتایا کہ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان خصوصی تعلقات سات دہائیوں پر محیط ہیں۔ ہماری بھرپور خواہش ہے کہ ہم ان تعلقات کو گہری، متنوع اور باہمی طور پر فائدہ مند سٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کریں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے سعودی عرب کے پہلے غیر ملکی دورے سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے خصوصی تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک معاشی’ تجارتی اور سرمایہ کاری روابط کے فروغ کے خصوصی حوالے سے باہمی تعاون کے نئے اور غیر روایتی شعبوں کی تلاش پر کام کر رہے ہیں۔ یوکرین اور روس کے تنازعہ کے حوالے سے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے دونوں ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور امید ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کثیر طرفہ معاہدوں’ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تنازعہ کا سفارتی حل ناگزیر ہے۔ پاکستان متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے کی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے یوکرین کے لوگوں کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سامان کی فراہمی کے لئے دو سی ون تھرٹی طیارے بھجوائے ہیں اور یکجہتی کے جذبے کے طور پر مزید سامان بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ بالخصوص ترقی پذیر ممالک سمیت کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں