.

سعودی عرب پاکستان کو موخر ادائیگی پر تیل فروخت سمیت تعاون کے دیگر آپشنز پرآمادہ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب، پاکستان کو موخر ادائیگی پر تیل فراہم کرے گا۔ ریاض اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں اپنے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں توسیع سمیت دوسرے اقدامات پر بھی غور کر رہا ہے تاکہ پاکستان کو افراط زر کے نتیجے میں پیدا والے معاشی مسائل کے حل میں مدد فراہم کی جا سکے۔

اس امر کا اعلان اتوار کے روز وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کیا گیا ہے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے خام تیل کی مصنوعات کی برآمدات کے لیے مالی اعانت کے معاہدے میں سعودی عرب کے توسیع کے فیصلے کا بھی خیر مقدم کیا ہے۔

شہباز شریف کی حکومت کو اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے قرضہ کی نئی قسط حاصل کرنے کی خاطر انتہائی مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں جن میں سابقہ حکومت کی جانب سے تیل کی مد میں دی جانے والی سبسڈیز کے خاتمے اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ سر فہرست ہے۔

یوکرین کی جنگ کے بعد سے خام تیل سے لے کر کوئلہ تک جیسے توانائی کے ذرائع کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ عوام اس بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے اپنی حکومتوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

گذشتہ برس پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے موقع پر سعودی عرب نے اسلام آباد کو4.2 ارب ڈالر مالیت کی امداد دینے کا وعدہ کیا تھا۔

اس میں تین ارب ڈالر مالیت کے ڈپازٹ اسٹیٹ بینک میں رکھنے کے لیے دے گئے تھے اور باقی 1.2 ارب ڈالر خام تیل کی مصنوعات کی برآمدات کے لیے مالی اعانت کی مد میں استعمال کیے جانے تھے۔

نئی حکومت نے آئی ایم ایف سے قرض حاصل کرنے کے معاہدے پر نئے مذاکرات سے پہلے پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ایک ٹیم 7 مئی کو پاکستان کا دورہ کرنے والی جس میں وہ تیل اور بجلی کے نرخوں پر حکومتی سبسڈی کے معاملے پر شہباز حکومت سے مذاکرات کریں گے۔

آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری میں تاخیر کی وجہ سے پاکستان میں زر مبادلہ کے ذخائر گذشتہ دو مہینوں کے دوران بہت حد تک کم ہو گئے ہیں۔ اگر ان میں اضافے کے طریقوں پر غور نہ کیا گیا تو یہ ملک کی دو مہینوں کے لیے برآمدت کے ادائیگیوں کے بعد ختم ہو جائیں گے۔

واضح رہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر وزیراعظم شہباز شریف تین روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچے تھے۔ یہ ان کا وزیراعظم بننے کے بعد پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز سے جمعے کی شب وزیراعظم نے ملاقات کی تھی۔

پاکستان کے پرائم منسٹر ہاؤس کے ٹوئٹر اکاونٹ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ملاقات کے دوران اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے، سرمایہ کاری کو وسعت دینے اور پاکستان کی افرادی قوت کےلیے مزید مواقع پیدا کرنے سے متعلق امور زیر غور آئے ہیں۔‘

ملاقات کے لیے شاہی محل پہنچنے پر شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیراعظم شہباز شریف کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ شہباز شریف کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جدہ کے السلام پیلس میں وزیر اعظم پاکستان کا خیر مقدم کیا اور سرکاری استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی۔

ملاقات میں دونوں ملکوں کے تاریخی تعلقات کا جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزرا بلاول بھٹو زرداری، مفتاح اسماعیل، نوبزادہ شاہ زین بگٹی، مریم اورنگزیب، خواجہ محمد آصف، چوہدری سالک حسین، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور محسن داوڑ بھی وزیرِاعظم کے ہمراہ وفد میں موجود تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں