شمالی وزیرستان، خود کش حملہ، 3 فوجی جوانوں سمیت 6 شہید

فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر مزید تحقیقات شروع کردیں: آئی ایس پی آر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شمالی وزیرستان کے علاقہ میرانشاہ کے قریب خود کش حملہ کے نتیجہ میں تین فوجی جوان اور تین معصوم بچے شہید ہو گئے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’’آئی ایس پی آر‘‘ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شہید ہونے والوں میں لانس حوالدار زبیرقادر عمر 33سال سکنہ پاکپتن، سپاہی عزیز اسفر، عمر 21 سال سکنہ ہری پور اورسپاہی قاسم مقصود، سکنہ ملتان شامل ہیں جبکہ معصوم بچے 11سالہ احمد حسن عمر،آٹھ سالہ احسن عمر اورچار سالہ انعم عمر نے شہادت کو گلے لگایا۔

انٹیلیجنس ایجنسیز خود کش حملہ آور کی کی شناخت کے حوالے سے کوششوں میں مصروف ہیں۔ جبکہ سکیورٹی فورسز اور تحقیقاتی ایجنسیوں نے خود کش دھماکہ کے بعد علاقہ کو گھیرے میں لے کر مزید تحقیقات شروع کردیں۔

وزیراعظم کا اظہار مذمت

وزیراعظم شہباز شریف نے خود کش دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے چھ افراد کی شہادت پر رنج و غم اور افسوس، متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم نے لانس حوالدار زبیر قادر، سپاہی عزیر اصفر اور سپاہی قاسم مقصود کو خراج عقیدت پیش کیا اور شہید بچوں 4 سالہ انعم، 8 سالہ احسن اور 11 سالہ احمد حسن کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ معصوم بچوں کے قاتل اسلام اور انسانیت دونوں کے دشمن ہیں، اس سفاک وحشت اور درندگی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، قاتلوں کے سرپرستوں کو سزا دے کر رہیں گے۔

انہوں ںے مزید کہا کہ افواج پاکستان کی عظیم قربانیاں ہماری تاریخ کا سنہری باب ہے، اپنے شہداء پر پوری قوم کو فخر ہے، شجاعت و شہادت ہماری افواج کی تاب ناک روایت ہے جسے ہمارے شہدا نے اسے برقرار رکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں