حکومت کے’ہنگامی اقتصادی منصوبہ‘کے تحت غیرضروری لگژری اشیاء کی درآمد پرپابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

حکومتِ پاکستان نے’’ہنگامی اقتصادی منصوبہ‘‘کے تحت تمام غیرضروری پُرتعیش (لگژری) اشیاء کی درآمد پر پابندی عاید کردی ہے۔

وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگ زیب نے جمعرات کو اسلام آباد میں ایک نیوزکانفرنس میں حکومت کے اس فیصلہ کا اعلان کیا ہے۔اس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے ٹویٹر پر کہا کہ ’’اس فیصلے سے ملک کا قیمتی زرِمبادلہ بچانے میں مدد ملے گی‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم کفایت شعاری پر عمل کریں گے اور مالی طورپرمضبوط لوگوں کو اس کوشش میں قیادت کرنی چاہیے تاکہ ہم میں سے کم مراعات یافتہ افراد کو پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے ڈالا جانے والا مالی بوجھ برداشت نہ کرنا پڑے۔انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ قوم ان چیلنجوں پر’’پختہ عزم اورارادے‘‘کے ساتھ قابو پا لے گی‘‘۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک میں بڑھتے ہوئے درآمدی بل، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کی وجہ سے گذشتہ چند ہفتے کے دوران میں روپے کے مقابلے میں ڈالرکی قدر میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔جمعرات کو ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اورانٹر بینک مارکیٹ میں ایک ڈالر200 روپے کا ہوگیا۔

وزیراطلاعات نے صحافیوں سے گفتگو میں قوم کو یقین دلایا کہ وزیر اعظم شہبازشریف معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔تمام غیرضروری پُرتعیش اشیاء کی درآمد پر پابندی عاید کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انھوں نے درآمدشدہ گاڑیوں کو ایسی ہی ایک شے کے طور پر شناخت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اشیاء ایسی ہیں جو عام لوگوں کے استعمال میں نہیں آتی ہیں۔

ممنوعہ اشیاء کی فہرست

حکومت نے ان اشیاء کی درآمد پر پابندی عاید کی ہے:گاڑیاں،موبائل فون،خشک میوہ جات،گھریلو آلات،کراکری (برتن)،نجی ہتھیار،جوتے،سجاوٹ کی اشیاء،دروازے اور کھڑکی کے فریم،چٹنی،منجمد گوشت،پھل،قالین،ٹشو پیپر،فرنیچر،میک اپ کاسامان،چاکلیٹ، مٹھائی کی اشیاء،شیمپو،دھوپ کے چشمے،سگریٹ،موسیقی کے آلات۔

وزیراطلاعات نے کہا کہ یہ ’’ہنگامی صورت حال‘‘ہے اور پاکستانیوں کواس ہنگامی اقتصادی منصوبہ کے تحت قربانیاں دینا ہوں گی۔انھوں نے مزید بتایاکہ ان پابندیوں کے اثرات قریباً 6 ارب ڈالر ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ درآمدی احکامات جہاں کریڈٹ کا خط پہلے ہی کھولاجاچکا ہے یا جہاں رقم اداکی جاچکی ہے وہاں مزید کارروائی کی اجازت ہوگی لیکن کسی نئے آرڈر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں درآمدات پرانحصار کم کرنا ہوگا۔حکومت اب برآمدات پر توجہ دے رہی ہے۔اس کے اقتصادی منصوبے کے تحت مقامی صنعتیں خوشحال ہوں گی جبکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔نئے اقدامات کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر بھی اثر پڑے گا۔

پی ٹی آئی کی قیادت میں سابق حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مریم اورنگ زیب نے کہا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنی ہی حکومت کے خلاف تمام مقدمات کو پس پشت ڈال دیا تھا۔ انھوں نے افراط زرمیں تیزی سے اضافے اور’’معاشی دہشت گردی‘‘ کے ارتکاب کا پی ٹی آئی حکومت کو ذمے دار ٹھہرایا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ عمران ملک کے معاشی مسائل سے بری طرح لاعلم ہیں۔قبل از وقت انتخابات کرانے کے لیے پی ٹی آئی کے مسلسل مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے زور دے کر کہا کہ حکومت اوراس کے اتحادی اس سلسلے میں فیصلہ کریں گےکہ انتخابات کب کرائے جائیں۔انھوں نے سابق وزیراعظم کو مخاطب کرکے کہا کہ اگر آپ انتخابات کرانے کا ارادہ رکھتے تو آپ عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے سے پہلے ایسا کرتے۔

اورنگ زیب کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت ہی ملک کو درپیش معاشی بحران سے نکال سکتی ہے۔وزیراعظم افراط زر کو کم کرنے پر کام کررہے ہیں لیکن اس طرح کے فیصلوں کے لیے چوبیس گھنٹے کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس موجودہ معاشی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت اورتجربہ ہے۔درآمدی اشیاء پرپابندی کے اقدام کا مقصد معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔

دریں اثنا پی ٹی آئی کے رہ نما اور سابق وزیر حماداظہر نے حکومت کے اس اقدام پر سوال اٹھاتے ہوئے دلیل دی ہے کہ ممنوعہ اشیاء ملک کے درآمدی بل کا صرف ایک چھوٹا سا فی صد بنتی ہیں۔

انھوں نے ٹویٹرپرکہا کہ ان اقدامات سے لاکھوں تاجر اور دکاندار متاثر ہوں گے اور اس کا اثردوطرفہ تجارت پر بھی پڑے گا۔نیزاس سے اسمگلنگ میں اضافے میں مدد ملے گی۔غیرتیل کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ صرف ایک ارب ڈالر سے کم ہے۔ انھوں نے پیشین گوئی کی کہ اشیاء پرپابندی لگانے کے یہ اقدامات غیراہم ثابت ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں