بلاول بھٹو کی جانب سے سابق وزیراعظم کے دورہ روس کی حمایت!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کے سب سے کمر عمر وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان کے دورہ روس کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم [عمران خان] کے دورہ روس کی حمایت کرتا ہوں۔ انہیں نہیں معلوم تھا کہ ماسکو پہنچتے ہی ان کا میزبان ملک، یوکرین پر حملہ کر دے گا۔ پاکستان کو اس طرح کے بے گناہ اقدام کی سزا دینا انتہائی غیر منصفانہ اقدام ہو گا۔

ان خیالات کا اظہار بلاول بھٹو نے اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے خارجہ پالیسی کے تحت روس کا دورہ کیا تھا ، میں ان کے دورہ روس کا دفاع کرتا ہوں اور دورہ روس پر پاکستان کو قصور وار ٹھہرانا درست نہیں ہے۔

’’ہم کسی جارح کی طرف داری نہیں کرنا چاہتے ہیں اور کسی تنازع کاحصہ نہیں بننا چاہتے۔ ہم جنگ دیکھ دیکھ کر تھک چکے ہیں۔ ہمیں افغانستان میں جاری بحران پر تشویش ہے اور پاکستان فلسطینیوں کی بھی حمایت کرتا ہے۔‘‘

وزیر خارجہ نے کہا کہ تنازعات کی وجہ سے انسانی بحران جنم لے رہے ہیں اور غذائی قلت کا سامنا ہے، اس حوالے سے قائدانہ کردار کے لیے ہم اقوام متحدہ کی طرف دیکھتے ہیں۔

یوکرین کے لوگ وہاں جاری تنازع کی وجہ سے بھوک کا شکار ہو رہے ہیں۔ افغانستان کی 95 فیصد آبادی تنازع کی وجہ سے براہ راست خطرے میں ہے۔ مقبوضہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے لوگ دائمی تنازع کی وجہ سے مسلسل قید ہیں اور بھوک سمیت وحشیانہ سلوک کا شکار ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اقوام متحدہ کے قیام کے بنیادی مقاصد میں تنازعات کا حل، جنگ کا خاتمہ، امن قائم کرنا، بھوک، غربت اور پسماندگی کے خلاف جنگ کرنا شامل تھے۔ اقوام متحدہ اسی مقصد کے لیے وجود میں آئی تھی لیکن اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے تحت 76 سال قبل تشکیل دیا گیا ورلڈ آرڈر متزلزل ہو رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں