سابق وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری اسلام آباد سے ’گرفتار‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسلام آباد پولیس نے تحریکِ انصاف کی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری کو اسلام آباد سے گرفتار کر لیا ہے۔ سابق وفاقی وزیر کی بیٹی ایڈوکیٹ ایمان مزاری نے والدہ کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔

اسلام آباد پولیس کے مطابق ڈاکٹر شیریں مزاری کے خلاف ڈیرہ غازی خان میں سرکاری اراضی پر قبضے کا الزام تھا اور اینٹی کرپشن پنجاب اس معاملے کی تحقیقات کر رہا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وفاقی وزیر انسانی حقوق کو اسلام آباد میں اُن کی رہائش گاہ کے باہر سے حراست میں لیا گیا۔

عمران خان کی مذمتی ٹویٹ

سنیچر کو ایک ٹویٹ میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’ہماری سینیئر رہنما شیریں مزاری کو فاشسٹ حکومت نے ان کے گھر کے باہر سے پرتشدد طریقے سے اغوا کیا۔ شیریں مضبوط اور بے خوف ہیں۔ اگر امپورٹڈ حکومت سمجھتی ہے کہ وہ انہیں فاشزم سے دبا سکتی ہے تو ان کا اندازہ غلط ہے۔‘

انہوں نے لکھا کہ ’ہماری جدوجہد پرامن ہے، لیکن یہ فاشسٹ امپورٹڈ حکومت ملک کو افراتفری کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے۔ معیشت کی بدحالی کے بعد وہ الیکشن سے بچنے کے لیے انارکی پھیلانا چاہتے ہیں۔ ہم آج احتجاج کریں گے اور کل کور کمیٹی کی میٹنگ کے بعد لانگ مارچ کا اعلان کروں گا۔‘

اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے وکلا اسلام آباد ہائی کورٹ میں حبس بیجا کے خلاف پٹیشن دائر کر رہے ہیں۔

مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے الزام لگایا کہ شیریں مزاری کو گرفتاری سے قبل زد وکوب بھی کیا گیا۔ تحریکِ انصاف کے رہنما فرخ حبیب نے بھی الزام لگایا کہ گرفتاری سے قبل شیریں مزاری پر تشدد کیا گیا جس کی وہ مذمت کرتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر شیریں مزاری کے خلاف کوئی مقدمہ تھا تو وہ ہائی لائٹ کیوں نہیں ہوا۔ اُنہیں صرف سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا کیوں کہ وہ موجودہ حکومت پر کھل کر تنقید کرتی تھیں۔

شیریں مزاری کی صاحبزادی اور انسانی حقوق کی کارکن ایڈووکیٹ ایمان زینب مزاری نے الزام لگایا ہے کہ گرفتاری سے قبل اُن کی والدہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

سوشل میڈیا پر ردِعمل

ڈاکٹر شیریں مزاری کی گرفتاری کا معاملہ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ ہے اور مختلف سیاسی رہنما اور تجزیہ کار اس معاملے پر اظہارِ خیال کر رہے ہیں۔

تحریکِ انصاف کے رہنما ڈاکٹر شفقت محمود نے بھی ڈاکٹر شیریں مزاری کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔

ایک ٹوئٹ میں اُن کا کہنا تھا کہ لاہور میں آج تحریکِ انصاف کے کارکن احتجاج کریں گے۔

تحریکِ انصاف کی رہنما زرتاج گل وزیر نے ٹوئٹ میں الزام لگایا کہ موجودہ حکومت غیر قانونی ہتھکنڈوں کے ذریعے آئین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے۔

رہنما مسلم لیگ ن ملک احمد خان نے شیریں مزاری کی گرفتاری سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ یہ پتا چلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ کس نے کیا ہے۔

زمین پر ناجائز قبضے کا مقدمہ

میڈیا رپورٹس کے مطابق شیریں مزاری کے خلاف ڈی جی خان میں ایک مقدمہ درج ہوا تھا جس پر انہیں اینٹی کرپشن پنجاب کی ٹیم نے اسلام آباد پولیس کی مدد سے تھانہ کوہسار کی حدود میں گرفتار کیا۔

اطلاعات کے مطابق شیریں مزاری کو اینٹی کرپشن ونگ ڈی جی خان نے اراضی کے ایک مقدمے میں گرفتار کیا اور تھانہ کوہسار لے جایا گیا جہاں سے انہیں لاہور لے جانے کا بھی امکان ہے۔ شیریں مزاری پر اس مقدمے میں ایف آئی آر درج ہے۔ عملہ وارنٹ گرفتاری لے کر آیا تھا۔ اینٹی کرپشن پنجاب نے ان کے خلاف کارروائی کا آغاز مارچ 2022 میں کیا تھا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اینٹی کرپشن پنجاب والے شیریں مزاری کو لے کر ڈیرہ غازی خان روانہ ہو گئے ہیں۔

ادھر سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری پر درج کیے گئے مقدمے کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔ ایک نجی ٹی وی نے ڈپٹی کمشنر راجن پور کی درخواست پر درج مقدمے کی نقل حاصل کر لی ہے اور یہ مقدمہ اینٹی کرپشن پنجاب نے اسسٹنٹ کمشنر راجن پور کی شکایت پر درج کیا۔

دستاویز کے مطابق شیریں مزاری پر زمین پر ناجائز قبضے کا الزام ہے۔ ان کے خلاف 11 مارچ 2022 کو شکایت نمبر 1272 درج کی گئی تھی جب کہ اسٹنٹ کمشنر راجن پور کو معاملے کی انکوائری کی ہدایت کی گئی۔ مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ 8 اپریل کو اسسٹنٹ کمشنر نے اپنی رپورٹ تیار کی، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے اپنے رولز مجریہ 2014 کے تحت کرمنل مقدمہ درج کیا۔۔

خیال رہے کہ سابق وفاقی وزیر عمران خان حکومت کے جانے کے بعد ٹوئٹر پر خاصی سرگرم رہی ہیں۔ وہ موجودہ حکومت کے علاوہ ریاستی اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں