سعودی عرب کابینک دولت پاکستان میں جمع کرائے گئے3 ارب ڈالرکی مدت میں توسیع پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی وزیرخزانہ محمد الجدعان نے کہا ہے کہ ان کا ملک پاکستان کوزرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے جمع کرائے گئے تین ارب ڈالرکی واپسی مدت میں توسیع پرغورکر رہا ہے۔

انھوں نے منگل کے روز ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کے موقع پرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم اس وقت پاکستان کو تین ارب ڈالر کے ڈیپازٹ کی مدت میں توسیع کو حتمی شکل دے رہے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے گذشتہ سال پاکستان کےغیرملکی زرمبادلہ ذخائر کی معاونت کے لیے مرکزی بینک میں تین ارب ڈالر جمع کرائے تھے۔

سعودی وزیرخزانہ نے اس معاملے کی مزید تفصیل پیش نہیں کی۔البتہ انھوں نے پاکستان ایک اہم اتحادی ملک ہے اور سعودی عرب اس کے پیچھے کھڑا ہوگا۔

قبل ازیں یکم مئی کو دونوں ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ وہ جمع شدہ رقم کی مدت میں توسیع یا دیگراختیارات کے ذریعے ڈیپازٹ کی معاونت کے امکان پر تبادلہ خیال کریں گے۔

پاکستان اس وقت شدید معاشی بحران سے دوچارہے اوراس کو بیرونی مالی امداد کی اشدضرورت ہے۔افراطِ زرکی بلند شرح سے قومی معیشت کونقصان پہنچا ہے۔اس کے زرِمبادلہ کے ذخائردوماہ سے بھی کم مدت کی درآمدات کے لیے رہ گئے ہیں اور یہ ڈالرکے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل کمی کی وجہ سے سکڑرہے ہیں۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کے پروگرام کی بحالی پر غیریقینی صورت حال نے گذشتہ ماہ اقتدار سنبھالنے والی مخلوط حکومت کو بہت سی سیاسی اور معاشی مشکلات سے دوچار کردیا ہے جبکہ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے بے دخل کیے گئے سابق وزیراعظم عمران خان اس حکومت کے خلاف بدھ سے احتجاجی مارچ کررہے ہیں۔

ادھر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کے درمیان امدادی پروگرام کی بحالی کے لیے مذاکرات جاری ہیں لیکن ابھی ان میں اس پر کوئی حتمی اتفاق رائے نہیں ہوا ہے۔فنڈ حکومتِ پاکستان پرمختلف اشیاء پردیے جانے والے زرتلافی (سب سڈی) کوختم کرنے پر زوردے رہا ہے جبکہ میاں شہبازشریف کی حکومت اس تجویز کی مزاحمت کررہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کی صورت میں عوام میں بے چینی پیدا ہوگی اور ملک مزید عدم استحکام سے دوچار ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں