صدرِ مملکت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کر لیا

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 26 مئی کو سہہ پہر 4 بجے طلب کر لیا،اجلاس آئین کے آرٹیکل 54 دن کے تحت طلب کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کر لیا۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 26 مئی کو سہہ پہر 4 بجے طلب کر لیا۔اجلاس آئین کے آرٹیکل 54 دن کے تحت طلب کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ صدر نے پارلیمان کا آخری مشترکہ اجلاس گزشتہ برس نومبر میں طلب کیا تھا جس میں پی ٹی آئی حکومت نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2021 سمیت دیگر بلز منظور کرائے تھے۔

یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ موجودہ حکومت میں شامل جماعتوں نے تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں سابق وزیراعظم عمران خان کو اقتدار سے بے دخل کر دیا تھا۔

پی ٹی آئی حکومت نے تحریک عدم اعتماد اور حکومت کے خاتمے کو غیر ملکی سازش قرار دیا تھا اور احتجاجاً قومی اسمبلی سے استعفے دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

بعدازاں 14 اپریل کو سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے بحیثیت قائم مقام اسپیکر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 123 اراکین کے استعفے منظور کر لیے تھے۔

تاہم پی ٹی آئی اراکین کو اب تک قومی اسمبلی سے ڈی نوٹیفائی نہیں کیا گیا۔

ادھر پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے باعث اس وقت سیاسی صورتحال شدت اختیار کر چکی ہے۔مختلف شہروں سے پی ٹی آئی رہنما قافلوں کی شکل میں لانگ مارچ کے لیے اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہیں۔ کارکنان کی جانب سے رکاوٹیں عبور کرکے آگے بڑھنے کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس کی جانب سے کارکنان پر شیلنگ بھی کی گئی۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کارکنان کو پولیس کی جانب سے ہراساں کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا اور کہا کہ ڈپٹی کمشنر پیش ہو کر بتائیں کیوں کارکنان کو غیر ضروری ہراساں کیا جا رہا ہے۔

ڈپٹی کمشنر کی پیشی پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈپٹی کمشنر کو وفاقی دارالحکومت سے پی ٹی آئی کے حراست میں لیے 70 افراد کو بانڈ لے کر چھوڑنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اگر کسی کے خلاف کوئی کیس ہو تو اس عدالت کو کل بتائیں اور اس کر نظرثانی کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں