لانگ مارچ کے موقع پر لاہور میں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان میں تصادم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے بدھ کے روز ڈی چوک اسلام آباد پہنچنے کےاعلان کے بعد ڈی چوک کو چاروں اطراف سے کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا۔

اسلام آباد کے ڈی چوک کی طرف آنے والے تمام راستے بھی سیل کر دیے گئے ہیں جبکہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ روکنے کے لیے مختلف شہروں میں سڑکوں پر کنٹینرز اور ٹرک کھڑے کر دیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان آج پشاور سے لانگ مارچ کے لیے اسلام آباد روانہ ہوں گے جبکہ حکومت نے خیبر پختونخوا اور پنجاب کی سرحد کو اٹک خورد کے مقام پر کنٹینرز لگا کر بند رکھا ہے۔

جی ٹی روڈ اور موٹر ویز پر رکاوٹیں لگا کر لاہور اور پشاور سے اسلام آباد جانے وا لے راستے بند کر دیے گئے ہیں اور بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

فیض آباد انٹرچینج راولپنڈی بھی سیل کر دیا گیا ہے جبکہ راولپنڈی سے اسلام آباد جانے والے راستے بھی بند کیے جانے کا امکان ہے۔

حکومت نے اسلام آباد کے لیے پولیس، رینجرز اور ایف سی بلا لی ہے اور ریڈ زون سیل کر دیا گیا ہے۔ صوبہ پنجاب، سندھ اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پانچ سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

راولپنڈی اور اسلام آباد میں میٹرو بس سروس بند کر دی گئی ہے جبکہ جڑواں شہروں میں آج ہونے والے پرچے بھی ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

راولپنڈی اسلام آباد کے تمام بس اڈے سیل کر دیے گئے ہیں اور ٹرانسپورٹرز کو گاڑیاں سڑکوں پر نہ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

گرفتاریاں، پولیس چھاپے

حکومت پنجاب نے تحریک انصاف کے رہنماؤں محمود الرشید اور سینیٹر اعجاز چوہدری سمیت مختلف شہروں کے مقامی رہنماؤں اور درجنوں کارکنوں کو ایم پی او کے تحت حراست میں لے لیا ہے جبکہ دیگر رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے ان کے گھروں پر چھاپے بھی مارے جا رہے ہیں۔

پیٹرول موبائل سروس بند

ملکی سیاسی صورتحال کے پیش نظر پنجاب پیٹرولیم ایسوسی ایشن نے آج تیل کی فراہمی بند رکھنے کا اعلان کیا ہے جبکہ لاہور سمیت پنجاب کے 350 سے زیادہ مقامات پر موبائل فون سروس بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

لاہور میں پولیس نے پی ٹی آئی کارکنان کو روکنے کے لیے مختلف مقامات پر رکاوٹیں لگا رکھی ہیں جنہیں ہٹانے کے لیے پی ٹی آئی کارکنان بتی چوک پہنچ گئے۔

پی ٹی آئی کا رکنان نے جی ٹی روڈ کے علاقے بتی چوک پر لگی رکاوٹوں کو جب ہٹانا شروع کیا تو کارکنان اور پولیس کے درمیان جھڑ پ ہوگئی جس پر پولیس نے پی ٹی آئی کارکنان پر آنسو گیس کی شیلنگ کی۔

پی ٹی آئی کارکنان رکاوٹیں ہٹاکر راوی پل جانا چاہتے ہیں جسے انتظامیہ نے کنٹینر لگا کر بند کررکھاہے تاہم پولیس نے کارکنان کو تقریباً راوی پل سے 100 میٹر پہلے ہی روک لیا۔

یاسمین راشد کی گاڑی پر پولیس کا دھاوا

پولیس اہلکاروں نے ڈاکٹر یاسمین راشد کو بتی چوک کی طرف جانے کی اجازت دینے سے انکار کیا جس پر انہوں نے انکار کر دیا اور ڈاکٹر پی ٹی آئی رہنما گاڑی کو آگے بڑھاتی رہیں۔

ڈاکٹر یاسمین راشد نے گاڑی آگے بڑھانے کی کوشش کی تو اس دوران پولیس اہلکاروں کی جانب سے ان کی گاڑی پر شدید لاٹھی چارج کیا گیا جس سے ان کی گاڑی کی ونڈ اسکرین بھی ٹوٹ گئی۔

ذرائع پنجاب پولیس کے مطابق پی ٹی آئی کے صوبے بھر سے دو ہزار سے زائد جب کہ لاہور شہر سے 125 کارکنوں کو نقض امن میں خلل کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔

ادھر وزیراعلٰی پنجاب حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ راستوں کی بندش سے شہریوں کی مشکلات کاپورا احساس ہے۔ مشکلات پرشہریوں سے معذرت خواہ ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اُنہوں نے پاکستان کے مفادات کو سامنے رکھ کر ایک پاکستانی کی حیثیت سے عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

ادھر کراچی میں بھی پی ٹی آئی کے احتجاج کے اعلان کے بعد کوریڈور تھری پر پیپلز چورنگی سے پارکنگ پلازہ آنے اور جانے والی سڑک کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ نمائش چورنگی جانے والے راستوں کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں