فوج کے خلاف ہرزہ سرائی :ایمان مزاری نے پیشگی ضمانت کروا لی

جنرل ہیڈکوارٹر کی جیگ برانچ کی شکایت پر تھانہ رمنا میں مقدمہ درج کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی اور دھمکیوں کے مقدمہ میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی ہے۔ عدالت نے ایمان مزاری کی ایک ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت کی منظوری دی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی۔

ایمان مزاری اپنی وکیل زینب جنجوعہ ایڈوکیٹ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئیں حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر کی ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ گذشتہ روز تھانہ رمنا میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ عدالت نے ایمان مزاری ضمانت ایک ہزار روپے مچلکوں کی عوض 9 جون تک حفاظتی ضمانت منظور کر لی۔

یاد رہے کہ اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی اور دھمکیاں دینے کی دفعات کے تحت ایمان مزاری ایڈووکیٹ کے خلاف مقدمہ لیفٹیننٹ کرنل ہمایوں افتخار ایڈووکیٹ جنرل ہیڈکوارٹر کی شکایت پر تھانہ رمنا میں مقدمہ درج کرایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری نے21 مئی ہائیکورٹ کی حدود میں ایک بیان میں پاک فوج کی سینئر ملٹری لیڈرشپ کو برا بھلا کہا۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق اس بیان سے پاکستان آرمی کے رینکس میں بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی گئی۔ ایمان مزاری نے پاکستان آرمی کے اندر نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی جو سنجیدہ جرم ہے۔

ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری نے اپنے بیان سے پاکستان آرمی کی سینئر کمانڈ کی بھی توہین کی۔ اس طرح کے بیان سے پاکستان آرمی کے اندر بے چینی اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی۔ ایسے بیانات پاکستان آرمی اور سینئر لیڈرشپ کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ایسے بیانات قابل تعزیز جرم ہیں، ان جرائم کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں