الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر نئے ارکان کا نوٹی فکیشن روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے جمعرات کوپاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے 25 منحرف ارکان کی نااہلی کے بعد خواتین اوراقلیتوں کے لیے مختص پنجاب اسمبلی کی پانچ نشستوں پر نئے ارکان کے نوٹی فکیشن کو روک دیاہے۔

گذشتہ ماہ پی ٹی آئی کے 25 منحرف قانون سازوں کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں پی پاکستان مسلم لیگ نواز (ایم ایل ن) کے حمزہ شہباز کے حق میں ووٹ ڈالنے پر نااہل قراردے دیا گیا تھا۔انھیں ای سی پی نے 23 مئی کو باضابطہ طور پر ڈی نوٹیفائی کردیا تھا۔ان میں خواتین اوراقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں پرمنتخب شدہ پانچ ارکان بھی شامل تھے۔

پی ٹی آئی نے 28 مئی کو عدالت عالیہ لاہور میں ایک درخواست دائر کی تھی اور اس میں یہ استدعا کی تھی کہ وہ الیکشن کمیشن کو پانچ نئے ایم پی اے کی کامیابی کا نوٹی فکیشن جاری کرنے کی ہدایت کرے اوراس مقصد کے لیے انھیں ذاتی طور پرطلب کرکے مطلع کرے۔اس کے بعد عدالت عالیہ نے ای سی پی کو اس معاملے پر 2 جون تک فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

الیکشن کمیشن نے آج اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ضمنی انتخابات کے انعقاد تک نوٹی فکیشن روک دیا گیا ہے۔اس نے پی ٹی آئی اور پاکستان مسلم لیگ نوازکی درخواستیں بھی مسترد کردی ہیں۔

پی ٹی آئی کے نائب صدر فواد چودھری نے ای سی پی کواس فیصلے پرتنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ پارٹی اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

قبل ازیں ای سی پی میں سماعت کے دوران میں پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چودھری نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پنجاب میں موجودہ حکومت کے پاس اکثریت نہیں ،اس لیے وہ نظم ونسق چلانے کی مستحق نہیں ہے۔

انھوں نے کہاکہ ای سی پی کو مخصوص نشستوں پر نئے ایم پی اے حضرات کے نوٹی فکیشن فوری طور پرجاری کرنے چاہییں۔انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے مطابق نئے ایم پی اے اسی پارٹی کے ہوں گے جس کے سابقہ ایم پی اے حضرات کو منحرف ہونے پرنااہل قراردیا گیا ہے۔

دریں اثناء، پی ایم ایل ن کے وکیل خالداسحاق نے مؤقف اختیارکیا کہ یہ مقدمہ ’’پہلے تاثر‘‘کا ہے اورمتناسب نمائندگی کے اصول کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔انھوں نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی کہ پنجاب اسمبلی میں موجودہ تناسب کے مطابق مخصوص نشستوں کے ارکان کا نوٹی فکیشن جاری کیا جائے۔

اٹارنی جنرل پاکستان اشتراوصاف نے اپنی جانب سے مؤقف اختیار کیا کہ متناسب نمائندگی کے اصول کا اطلاق اس وقت تک نہیں کیا جاسکتا جب تک اسمبلی ’’مکمل‘‘ نہیں ہو جاتی۔انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی بیس نشستیں کم ہوچکی ہیں جس کے بعد اس کے ووٹوں کا تناسب بھی پہلے والا نہیں رہا ہے۔نیز فی الوقت کوئی نہیں بتا سکتا کہ ضمنی انتخابات میں کون سی جماعت کامیاب ہوگی۔

اشتراوصاف نے مزیدکہا کہ اگر ای سی پی ضمنی انتخابات تک انتظارکرے تو یہ ’’زیادہ مناسب‘‘ ہوگا۔اس کے بعد الیکشن کمیشن نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا اور پھربعد میں نئے ارکان کا نوٹی فیکشن روکنے کا فیصلہ سنایا ہے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے 25 منحرف ارکان اسمبلی کے ووٹوں کی بدولت ہی وزیراعلیٰ کے انتخاب میں حمزہ شہبازکواکثریت حاصل ہوئی تھی۔انھیں مجموعی طور پر198 ووٹ ملے تھے جبکہ وزیراعلیٰ کے سادہ اکثریت سے انتخاب کے لیے186 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں