پشاور ہائیکورٹ نے عمران خان کی راہداری ضمانت منظور کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی راہداری ضمانت منظور کر لی۔ عمران خان نے ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

عمران خان کے خلاف 25 مئی کے لانگ مارچ پر اسلام آباد کے تھانوں میں مختلف مقدمات درج ہیں۔ عمران خان کی جانب سے ڈاکٹر بابر اعوان رجسٹرار کے سامنے پیش ہوئے۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس قیصر رشید نے عمران خان کی درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں سابق وزیراعظم عدالت میں پیش ہوئے۔ عمران خان کی آمد پر عدالت کا دروازہ بند کردیا گیا اور میڈیا نمائندوں کو عدالت میں جانے سے بھی روک دیا گیا۔

بعد ازاں پشاور ہائی کورٹ نے عمران خان کی راہداری ضمانت تین ہفتوں کے لیے منظور کر لی اور انہیں 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔ خیال رہے کہ عمران خان نے گذشتہ رات ایک بیان دیا تھا جس کے بعد حکومت کی جانب سے ان پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔

عمران خان نے کہا تھا ’’کہ ہم فیصلہ کن وقت پر کھڑے ہیں، ہم تباہی کی طرف جاسکتے ہیں، میں لکھ کر دیتا ہوں کہ اگر اسٹیبلشمنٹ نے درست فیصلے نہ کیے تو پہلے فوج تباہ ہو گی پھر ملک تباہ ہوجائے گا، کیوں کہ یہ حکومت جب سے آئی ہے روپیہ گر رہا ہے، مہنگائی ہورہی ہے، اگر ہم دیوالیہ ہوجاتے ہیں تو سب سے بڑا ادارہ تباہ ہو گا۔ پھر یوکرین کی طرح ایٹمی اثاثے واپس لیے جائیں گے۔ اس کے بعد ملک کے تین ٹکرے ہوجائیں گےجو ان کی منصوبہ بندی بنی ہوئی ہےاس لیے اس وقت درست فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

بول نیوز کو خصوصی انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ میں کنٹینر میں تھا کہ جب سپریم کورٹ کا فیصلہ جس کی مجھے سمجھ آئی کہ عدالت نے کہا کہ راستے کلیئر کر دو اور لوگوں کو چھوڑ دو۔ لیکن مجھے تب سوچنا چاہیے تھا کہ ہمارا 30سال سے ملک پر مسلط مافیا سے مقابلہ ہے۔ مافیا لوگوں کو ساتھ ملاتا ہے یا پھر ان کو ختم کر دیتے ہیں، دہشت پھیلاتے ہیں، جھوٹے کیسز کرتے ہیں تاکہ لوگ ان سے ڈر جائیں۔

مافیا نے ایک روز قبل بھی آپریشن کیا، ایک میجر کے گھر چلے گئے اس کی ماں اور دس سال کی بیٹی تھی۔ کون سا ملک جمہوری حق کو روکتا ہے؟ کون سا ملک اپنے لوگوں کے ساتھ اس طرح کی حرکتیں کرتا ہے؟ مشرف کا دور یاد ہے جب مجھے جیل میں رکھا اس وقت بھی ایسا نہیں تھا، یہ مجرم لوگ ہیں۔ انہوں نے ماڈل ٹاؤن میں شہبازشریف اور رانا ثناء اللہ نے لوگوں گولیاں ماریں، 14لوگ مارے، 70، 80 لوگوں کو گولیاں لگی ہوئی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں