صدرعارف علوی نے انتخابی اصلاحات،نیب آرڈی ننس میں ترامیم کے بل واپس بھیج دیے

دونوں بل عجلت میں منظورکیے گئے، پارلیمان اور اس کی متعلقہ کمیٹیوں کو دوبارہ تفصیلی غوروخوض کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

پاکستان کے صدرڈاکٹرعارف علوی نے پارلیمان کے منظورکردہ انتخابی اصلاحات اور قومی احتساب بیورو (نیب) کےآرڈی ننس میں ترامیم سے متعلق بل توثیق کے بغیروزیراعظم کو واپس بھیج دیے ہیں۔

صدر نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابقہ حکومت کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے استعمال اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے آئی ووٹنگ اور نیب کے وسیع اختیارات میں کتربیونت کے حوالے سے دونوں بل وزیراعظم شہبازشریف کو اس ہدایت کے ساتھ واپس بھیجے ہیں کہ پارلیمنٹ اور اس کی متعلقہ کمیٹیاں ان پر دوبارہ تفصیلی غوروخوض کریں۔

یہ دونوں بل گذشتہ ماہ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے منظور کیے تھے۔ صدر اگر ان کی توثیق کردیتے تو یہ قانون بن جاتے لیکن انھوں نے بوجوہ کی ان کی منظوری نہیں دی۔

انھوں نے کہا ہے کہ پارلیمان میں ان بِلوں کی منظوری کے وقت آئین کے آرٹیکل 46 کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔اس کے مطابق وزیراعظم ’’صدر کو داخلی اور خارجہ پالیسی کے ان تمام معاملات اور قانون سازی کی تجاویزسے متعلق آگاہ رکھیں گے جو وفاقی حکومت مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے سامنے لانے کا ارادہ رکھتی ہے‘‘۔

صدارتی سیکرٹریٹ کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوں کو پارلیمنٹ میں لانے سے قبل صدر کو قانون سازی کی تجاویز کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔یہ بل قومی اسمبلی اور سینیٹ نے 27 اور 29 مئی کو عجلت میں مناسب غوروخوض کے بغیر منظور کیے تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ معاشرے پر دُوررس اثرات مرتب کرنے والی اس قانون سازی پر قانونی برادری اور سول سوسائٹی سے مشاورت اور تفصیلی تبادلہ خیال کیا جانا چاہیے تھا۔صدر نے ہر بل پر مخصوص اعتراضات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔

انتخابی اصلاحات کا بل

صدر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 2018 کے ایک فیصلے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق 2014 سے اپنے ایک فیصلے کے مطابق برقرار رکھا تھا۔عدالت نے بھی آئی ووٹنگ کی توثیق کی تھی اور اسے محفوظ، قابل اعتماد اور موثر قرار دیا تھا۔

مزید برآں سپریم کورٹ نے پائلٹ پروجیکٹ میں آئی ووٹنگ کے استعمال کی منظوری دی تھی۔عدالت نے واضح طور پر مشاہدہ کیا کہ’’ہم ضمنی انتخابات کے نتائج کی ہدایت کرتے ہیں اور آئی ووٹنگ میکانزم کے ذریعے اوورسیز پاکستانیوں کے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کو اس وقت تک الگ الگ اور خفیہ رکھا جائے گا جب تک الیکشن کمیشن پاکستان آئی ووٹنگ نظام کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کی تکنیکی افادیت، رازداری اور سلامتی سے مطمئن نہیں ہوجاتا‘‘۔

صدرعلوی نے کہا کہ 2018 کے اپنے فیصلے میں عدالت عظمیٰ نے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ آئی ووٹنگ کا نظام اس کے پہلے فیصلے کے باوجود استعمال نہیں کیا گیا تھا۔انھوں نے اس امکان کو بھی مسترد کردیا کہ ای وی ایم کو ہیک کیا جاسکتا ہے۔ صدر نے آئی ووٹنگ کے نظام کا موازنہ ڈیجیٹل مالیاتی لین دین سے کیا اور کہا کہ’’آج ڈیجیٹل ٹرانزیکشن کی ہیکنگ کے امکان سے طیارہ حادثے کا امکان ہزارگنا زیادہ ہے‘‘۔

ان کا مؤقف تھا کہ پاکستان کی ای وی ایم منفرد ہیں کیونکہ انھوں نے الیکٹرانک طریق کار کے ساتھ ساتھ پہلے سے استعمال ہونے والے کاغذی بنیاد پر ووٹنگ کے نظام کو یک جا کیا ہے۔اس میں کوئی خطرہ نہیں ۔پارلیمنٹ ایسی قانون سازی کرسکتی ہے کہ اگرکوئی تضاد یا تنازع ہوتا ہے تو کاغذی گنتی کو الیکٹرانک گنتی یا اس کے برعکس ترجیح دی جائے گی۔

انھوں نے نشان دہی کی کہ ’’دھاندلی کا داغ ملک میں منعقدہ ہرانتخابات سے جڑاہوا تھا جس سے ہرآنے والی حکومت کی ساکھ کم ہوئی اور قانونی چارہ جوئی اور تصادم سے ملک کا نقصان ہوا۔اس شکل میں نئی ترامیم ایک قدم آگے بڑھنے اور پھر گھبرانے اور دو قدم پیچھے ہٹنے کے مترادف ہیں۔ انھیں واپس تبدیل کرنا انتخابات کی ترقی اور شفافیت کے لیے اس تکنیکی عمل میں غیر ضروری تاخیر کے مترادف ہے‘‘۔

بیان کے مطابق صدر نے کہا کہ پارلیمنٹ کو اس طرح کے قوانین بناتے وقت پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے اور اس کے بجائے انھیں ایک نظام الاوقات کے اندر بہتربنانا چاہیے تاکہ ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جاسکے۔

نیب قانون

صدر علوی نے کہا کہ اگر تجویز کے مطابق نیب آرڈی ننس میں ترامیم نافذ کی گئیں تو عدالتوں میں میگا کرپشن کے جاری مقدمات کو فضول اور ازکاررفتہ قراردے دیا جائے گا۔

مجوزہ ترمیم میں توملک میں اچھی حکمرانی کو یقینی بنانے جبکہ بدعنوانی اور سیاسی انجینئرنگ کے خاتمے کے لیے جواب دہی کے طریق کار کو مضبوط بنانا چاہیے تھا لیکن اس کے بجائے ان کے ذریعے نیب کوایک عضومعطل ادارہ بنا دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ترمیم کے تحت ثبوت کا بوجھ استغاثہ پر منتقل ہوگیا تھا جس کی وجہ سے یہ ضابطہ فوجداری کی طرح ہوگیا تھا۔اس ترمیم سے استغاثہ کے لیے بدعنوانی اور لوگوں کی جانب سے سرکاری اختیار کے غلط استعمال کے معاملات ثابت کرنا ناممکن ہوجائے گا اور ملک میں احتساب کے عمل کو دفن کردیا جائے گا۔

صدر نے کہا کہ اس ترمیم سے غیرقانونی جائیدادوں کے لیے منی ٹریل کا سراغ لگانے کا عمل ’’قریباًناممکن‘‘ہو جائے گا خاص طور پر اس لیے کہ جائیداد کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل نہیں کیا گیا تھا۔

اس طرح کی ترمیم اسلامی فقہ کی روح کے بھی منافی ہے جہاں خلیفہ حضرت عمررضی اللہ عنہ سے ایک عام شہری نے پوچھ گچھ کی تھی کہ وہ اپنی لمبی چادر کے لیے اضافی کپڑے کی وضاحت کریں۔نیز یہ ترقی یافتہ ممالک کے جواب دہی کے مختلف قوانین جیسے سوئس غیرملکی ناجائزاثاثے ایکٹ 2010 اور سفیدکالرجرائم سے متعلق برطانیہ کے غیرواضح دولت کا حکم مجریہ 2018 کے بھی منافی ہے۔

واضح رہے کہ میاں شہباز شریف کی قیادت میں مخلوط حکومت نے پارلیمان میں یہ دونوں بل ملک میں قبل ازوقت انتخابات کے امکانات کے بارے میں بحث اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے حکومت کو انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کے لیے چھے دن کی ڈیڈ لائن کے چند گھنٹے کے بعد پیش کیے تھے۔

ترامیم

نیب (دوسری ترمیم) بل 2021 میں تجویزپیش کی گئی ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے مقررکردہ نیب کے ڈپٹی چیئرمین،چیئرمین کی مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد بیورو کے قائم مقام سربراہ بن جائیں گے۔بل میں نیب چیئرمین اور بیورو کے پراسیکیوٹرجنرل کی چارسالہ مدت بھی کم کرکے تین سال کردی گئی ہے۔

قانون کی منظوری کے بعد نیب وفاقی، صوبائی یا مقامی ٹیکس معاملات پر کارروائی نہیں کر سکے گا۔ مزید برآں ملک میں کام کرنے والے ریگولیٹری اداروں کو بھی نیب کے دائرہ کار سے باہر کردیا گیا ہے۔

اس میں کہاگیا ہے کہ ’’اس آرڈی ننس کے تحت تمام زیرالتوا تفتیش، تحقیقات، مقدمات یا کارروائی، افراد یا لین دین سے متعلق کیسوں کو متعلقہ قوانین کے تحت متعلقہ حکام، محکموں اور عدالتوں کو منتقل کیا جائے گا‘‘۔

نئے قانون میں احتساب عدالتوں کے ججوں کے لیے تین سال کی مدت بھی مقرر کی گئی ہے۔انھیں عدالتوں میں ایک سال کے اندر مقدمے کا فیصلہ کرنے کا بھی پابند بنایاجائے گا۔ مجوزہ قانون کے تحت کسی ملزم کی گرفتاری سے قبل اس کے خلاف شواہد کی دستیابی کو یقینی بنانا نیب پرلازم قراردیا گیا ہے۔

ایک اہم ترمیم کے مطابق یہ قانون’’قومی جواب دہی آرڈی ننس 1999 کے آغازاوراس سے نافذالعمل سمجھا جائے گا‘‘۔

الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 94 میں ترمیم کے تحت الیکش کمیشن ضمنی انتخابات میں سمندرپارپاکستانیوں کی ووٹنگ کے لیے پائلٹ پروجیکٹ پرعمل درآمد کرسکتا ہے تاکہ اس طرح کی ووٹنگ کی تکنیکی افادیت، رازداری، سلامتی اور مالی طور پر قابل عامل ہونے کا پتا لگایا جا سکے۔الیکشن کمیشن اس کے نتائج حکومت کے ساتھ شیئر کرے گا۔وہ اس ضمن میں اپنی رپورٹ کسی ایوان کے اجلاس کے آغاز سے 15 دن کے اندر پیش کرے گا اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے یکساں طور پرپیش کرے گا۔

الیکشن ایکٹ کی دفعہ 103 میں ترمیم کے تحت الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات میں ای وی ایم اور بائیومیٹرک تصدیقی نظام کواستعمال کرنے کے لیے پائلٹ پروجیکٹ پر عمل درآمد کرسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں