پاکستان کے حکومتی حلقوں کا کالعدم ٹی ٹی پی کی فائر بندی میں توسیع کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک کے لیے توسیع کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔

گذشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’ٹی ٹی پی سے سنہ 2021 میں بات چیت شروع ہوئی تھی۔ یہ بات چیت حکومتی سطح پر ہو رہی ہے اور افغان حکومت اس میں سہولت فراہم کر رہی ہے۔‘

وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ بات چیت میں سول اور ملٹری نمائندگی شامل ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’جنگ بندی کا حکومتی سطح پر خیر مقدم کرتے ہیں، بات چیت کا دائرہ کار آئینی ہے، کمیٹی جو بھی فیصلہ کرے گی، اس کی منظوری پارلیمان اور حکومت دے گی۔'

اس سے قبل ٹی ٹی پی نے جمعے کے روز اپنے ایک اعلامیے میں تا حکم ثانی جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا ’دو دن پہلے کابل میں ٹی ٹی پی اور حکومت پاکستان کی طرف سے بھیجے گئے پشتون قوم، بالخصوص قبائلی عمائدین اور علما پر مشتمل گرینڈ جرگہ کے درمیان مذاکرات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔‘

ٹی ٹی پی کے بیان کے مطابق مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے چند دنوں کے اندر مزید مذاکرات ہوں گے۔

تاہم اب تک ہونے والے مذاکرات کے بارے میں سرکاری سطح پر اس سے قبل بیانات سامنے نہیں آئے تھے۔ دونوں فریقوں کے مطالبات کے حوالے سے ذرائع ابلاغ مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن متضاد معلومات کی بنا کی جانے والی فائر بندی کو بھی مختلف حلقے دیرپا قرار نہیں دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ عید الفطر سے پہلے قبائلی علاقوں میں تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا تھا۔ گذشتہ سال اگست میں جب سے افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی ہے پاکستان میں ٹی ٹی پی کی کارروائیاں بڑھ گئی تھیں۔

ان حملوں میں پاکستان کے اندر فورسز پر حملے ہی نہیں پاک افغان سرحد پر بھی سخت کشیدگی دیکھی جا رہی تھی۔ افغان طالبان پر بھی اس کا دباؤ بڑھ گیا تھا کیونکہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی تھی اور اس بارے میں افغان حکام کو آگاہ کیا گیا تھا۔

اس سال کے پہلے چار ماہ میں جہاں حکومت کے جانب سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں وہاں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے بھی متعدد حملے ہوئے ہیں۔ ان حملوں کے دعوے باقاعدہ سوشل میڈیا پر پیغامات کی شکل میں جاری کیے جاتے رہے ہیں۔

تنظیم نے مارچ کے مہینے میں 39 اور اپریل کے مہینے میں 54 حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا جن میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

سرکاری سطح پر بھی طالبان کے خلاف آپریشنز کیے گئے جن میں شدت پسندوں کی ہلاکت اور گرفتاریوں کا کہا گیا ہے۔ طالبان کی جانب سے شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان میں سب سے زیادہ حملے کیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں