حج2022ء:پاکستان سمیت پانچ ممالک کے عازمین کے لیے’شاہراہِ مکہ اقدام‘کاآغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کےعازمین حج کو ہر طرح کی سفری سہولتیں مہیا کرنےاور مناسک حج کی اطمینان بخش طریقے سے ادائی کے لیے امسال تیسری مرتبہ ’’شاہراہ مکہ ا قدام‘‘ ( روڈ ٹو مکہ) پر عمل درآمدکیا جارہا ہے۔اس کے تحت پاکستان سمیت پانچ مسلم اکثریتی ممالک کے عازمین حج کے امیگریشن کے مراحل ان کے اپنے ملک کے ہوائی اڈوں ہی پر مکمل کیے جارہے ہیں۔

انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے سوئیکارنو حاتا بین الاقوامی ہوائی اڈے سے ہفتے کے روز شاہراہ مکہ اقدام پر عمل درآمد کا آغاز ہوا ہے۔اس مرتبہ بھی سعودی عرب کی وزارت خارجہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد ، تُونس کے دارالحکومت تُونس ، ملائشیا کے دارالحکومت پتراجایا اور بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں اس اقدام پرعمل درآمد کررہی ہے۔

اس کے تحت فریضۂ حج کی ادائی کے لیے حجاز مقدس جانے والے عازمین کوان کے اپنے ملکوں ہی میں ہوائی اڈوں پر ای ویزے جاری کیے جارہے ہیں اور سعودی عرب میں آمد سے قبل ہی ان کے داخلے اور دیگر انتظامات کو حتمی شکل دی جارہی ہے تا کہ انھیں کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ بلارکاوٹ اپنی جائے قیام منتقل ہوسکیں۔

سعودی وزارت برائے خارجہ امور اس اقدام کے علاوہ بھی عازمین حج کے اپنے ملکوں سے مملکت میں داخلے کے طریق کار کو حتمی شکل دینے کے لیے بین الاقوامی حکومتوں کی ایجنسیوں اور اداروں کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے۔عازمین حج کو ان کی روانگی کے مقامات پرامیگریشن کلیرینس کی سہولت مہیا کی جارہی ہے اور اس ضمن میں ہدایات اور خدمات چھے زبانوں عربی ، انگریزی ، فرانسیسی ، روسی ، مندرین اور فارسی میں دستیاب ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے 2018ء کے موسمِ حج میں انڈونیشیا اور ملائشیا سے شاہراہ مکہ اقدام کا پہلی مرتبہ آغاز کیا تھا اور 2019ء میں بھی اس پر عمل درآمد کیا گیا تھا لیکن 2020ء اور 2021ء میں کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے بیرون ملک سے آنے والے عازمین حج پر پابندی عاید کردی گئی تھی۔اس لیے اس اقدام پر عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی تھی۔

اس کے تحت آنے والے عازمین حج کے انگلیوں کے نشان ان کے روانگی کےملک ہی میں لیے جارہے ہیں اور ان کے پاسپورٹس پر مہریں لگائی جارہی ہیں۔اس کے بعد سعودی عرب میں ان کا داخلہ اندرون ملک پروازوں سے آنے والے مسافروں ہی کا طرح ہورہا ہے اور ہوگا۔انھیں روڈ ٹو مکہ کی خصوصی بسوں کے ذریعے مکہ اور مدینہ منورہ میں ان کی جائے قیام ہوٹلوں تک پہنچایاجارہا ہے۔اسی طرح ان کے سفری سامان وغیرہ کو سعودی وزارت حج کے ذریعے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ان کے لیے حاصل کردہ قیام گاہوں تک الگ گاڑیوں میں براہ راست پہنچایاجارہا ہے۔

اس موسم حج کے دوران میں مذکورہ پانچ ممالک ملائشیا ، انڈونیشیا ، پاکستان،بنگلہ دیش اور تُونس سے تعلق رکھنے والے سوا دو لاکھ سے زیادہ عازمین حج اس اقدام سے فائدہ اٹھائیں گے۔ان ممالک سے حج پروازوں کا آغاز ہوچکا ہے اور مذکورہ ہوائی اڈوں سے روانہ ہونے والے عازمین کو سعودی ہوائی اڈوں پراترنے کے بعد سفری کاغذات کی کوئی جانچ پڑتال نہیں کی جارہی ہے۔ یوں ان کے گھنٹوں قیمتی وقت کی بچت ہورہی ہے۔یہ پروگرام سعودی عرب کے وسیع تر اصلاحات اور ترقی کی علامت سمجھے جانے والے وژن2030 کا حصہ ہے۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ "روڈ ٹو مکہ" اقدام کا مقصد عازمین کو اپنے ممالک سے آسانی کے ساتھ وصول کرنا اور ان کے حج کے طریق کاران کے ملک کے اندر ہی سے مکمل کرنا،آن لائن حج ویزہ جاری کرنا اور ہوائی اڈے پر پاسپورٹ کے طریق کار کی تکمیل کا عمل مکمل کرنا ہے۔

وزارت داخلہ اس اقدام پرخارجہ امور، صحت اورحج اور عمرہ کی وزارتوں،جنرل اتھارٹی برائے شہری ہوا بازی ، زکوٰۃ، ٹیکس اور کسٹم اتھارٹی، سعودی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی وزارت کے تعاون سے عمل درآمد کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں