پی ٹی آئی رکن اسمبلی کی عمران خان کا’بال بھی بیکا‘ ہونے پرخودکش حملہ کرنے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کی سابق حکمران جماعت تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے پارٹی چیئرمین عمران خان کا کوئی بال بیکا ہوا تو وہ خودکش حملہ کردیں گے۔

یہ دھمکی پی ٹی آئی کے کراچی سے تعلق رکھنے والے ایم این اے عطاءاللہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دی ہے۔ کئی نامورصحافیوں نے اس مشتعل رکن اسمبلی کی ویڈیو شیئر کی ہے۔

انھوں نے دھمکی آمیزلہجے میں کہا’’اگرعمران خان کے سر پرایک بال کوبھی نقصان پہنچا تو ملک چلانے والوں کو خبردارکیا جاتا ہے؛نہ تو آپ اور نہ ہی آپ کے بچے رہیں گے۔میں سب سے پہلے آپ پرخودکش حملہ کروں گا، میں آپ کو جانے نہیں دوں گا۔ اسی طرح ہزاروں کارکن تیار ہیں‘‘۔

اس چونکا دینے والے انتہاپسندانہ بیان پر ٹویٹر پر بہت سے لوگوں نے تنقید کی ہے۔ معروف صحافی طلعت حسین نے استفہامیہ انداز میں کہا:’’کس قانون کے تحت اس طرح کی دھمکیوں سے نمٹا جانا چاہیے؟اوہ جی ہاں، انسداد دہشت گردی ایکٹ‘‘۔

سابق وزیراعظم عمران خان کی جان کو لاحق مبیّنہ خطرے کے بارے میں سب سے پہلے پی ٹی آئی کے ایک اور سابق رکن پارلیمان فیصل واوڈا نے مارچ کے آخر میں بات کی تھی۔تب ان کی اپنی حکومت کا چل چلاؤ تھا۔اپریل کے آغاز میں سابق وزیراطلاعات فواد چودھری نے انکشاف کیا تھا کہ عمران خان کے قتل کی سازش کی اطلاع سکیورٹی اداروں نے دی ہے۔

اسی ماہ کے آخر میں پی ٹی آئی حکومت کی معزولی کے بعد لاہور کے ڈپٹی کمشنرنے پارٹی کو شہر میں ریلی نکالنے سے خبردارکیا تھا اور عمران خان کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ’’شدید خطرے کے الرٹ‘‘ کی روشنی میں اس اجتماع سے براہ راست کے بجائے ورچوئل خطاب کریں۔

14مئی کو سابق وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے اورانھوں نے ایک ویڈیو ریکارڈ کی ہے جس میں انھوں نے گذشتہ موسم گرما سے ’’میرے خلاف سازش‘‘کرنے والے تمام افراد کے نام لیے ہیں۔

اس سے اگلے روز وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی تھی کہ وہ عمران خان کو فول پروف سکیورٹی مہیاکریں۔اس وقت وزیراعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی حکومتوں کو بھی اسی طرح کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔اس میں مزید بتایاگیا تھاکہ’’سابق وزیراعظم کومیاں شہباز شریف کی ہدایات پرایک چیف سیکورٹی آفیسر بھی مہیا کیا گیا ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں