پاکستان کواگلے 12 ماہ میں 41 ارب ڈالردرکارہیں ’مگرمل جائیں گے‘: مفتاح اسماعیل

ہمیں آیندہ سال میں21 ارب ڈالر واپس کرناہوں گے،کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی بیرونی حد 12 ارب ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ملک کو اگلے 12 ماہ میں 41 ارب ڈالرکی ضرورت ہے اور وہ’’بہت پراعتماد‘‘ہیں کہ ایسا ہوجائے گا۔بہ الفاظ دیگر ان کے بہ قول یہ بھاری رقم معاشی بحران سے دوچارملک کو مل جائے گی۔

اسلام آباد میں منگل کے روزحکومت کی جانب سے منعقدہ پری بجٹ بزنس کانفرنس سے خطاب میں وزیرخزانہ نے ملکی معیشت کو درپیش مسائل کا خاکا پیش کیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’’ہمیں آیندہ سال میں 21 ارب ڈالر واپس کرناہوں گے۔کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی بیرونی حد 12 ارب ڈالر ہوگی ۔میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے پاس کم سے کم تین ماہ کے ذخائر ہونے چاہییں۔چناں چہ ہمیں اگلے 12 ماہ کے دوران میں 41 ارب ڈالر کی ضرورت ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ایسا ہوجائے گا‘‘۔انھوں نے مزیدوضاحت کیے بغیر کہا کہ وہ ’’بہت پراعتماد‘‘ہیں۔

انھوں نے کہا کہ شہباز شریف حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ دوبارہ کام کیا ہے۔ہم نے ان سے بات کی اورہمیں بہت یقین اور اعتمادہے کہ جلد ہی آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ طے پاجائے گا۔

انھوں نے مزیدکہا کہ موجودہ مخلوط حکومت نے معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سخت فیصلے کیے ہیں۔ کسی بھی وزیر اعظم کے لیے یہ آسان نہیں کہ وہ ہمارے پاس موجود ایندھن کی قیمت میں اضافے کی اجازت دے اور وہ بھی چند روز کے وقفے سے دو بار 30،30 روپے، لیکن ہمیں ڈیزل پر 84 روپے فی لیٹر اورپِٹرول پر 69 روپے فی لیٹر کا نقصان ہو رہا تھا۔

وزیرموصوف نے کہا کہ اگر ہم ایندھن پرزرتلافی (سبسڈی) دینے کا سلسلہ جاری رکھتے تو یہ نقصان 120 ارب روپے ماہانہ ہوتا جبکہ حکومت کا نظم ونسق چلانے کا خرچ چالیس ارب روپے ہے۔اس سبسڈی پر حکومت چلانے کی رقم تین بار خرچ کر رہے تھے۔یہ سابق حکومت کے آئی ایم ایف کے ساتھ دست خط کیے گئے معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ سابق حکومت نے آئی ایم ایف سے ایندھن پر سبسڈی نہ دینے کا وعدہ کیا تھا جبکہ 30 روپے فی لیٹرلیوی اور17 فی صد سیلزٹیکس بھی عاید کیا تھا۔ اگر میں شوکت ترین اور عمران خان کے معاہدوں پرعمل کرتا تو یا تو مجھے ملازمت سے نکال دیا جاتا یا پٹرول اور ڈیزل کی قیمت 300 روپے ہوتی۔

وزیرخزانہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سابق حکومت نے ایندھن کی سبسڈی دے کرموجودہ حکمرانوں کے لیے ’’جال‘‘ بچھایا۔ تاہم انھوں نے تاجروں کو یقین دلایا کہ ’’حکومت معیشت کو مستحکم کرے گی۔ہم سخت فیصلے کریں گے کیونکہ یہ ہمارا ملک ہے۔ اسے مستحکم کرنا ہمارا کام ہے اور ہم اسے بہتر حالت میں چھوڑکرجائیں گے‘‘۔

انھوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ حکومت نے حال ہی میں اس مقصد کے لیے سعودی عرب، چین، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے ساتھ بات چیت کی ہے۔

مفتاح اسماعیل نے یہ انکشاف بھی کہا کہ حکومت نے’’بہت ترقی پسند بجٹ‘‘ تیارکیا ہے لیکن وہ مالی کنٹرول اور استحکام پر بھی توجہ مرکوز کرے گی اور بجٹ خسارے کو کم کرنے کا عہد کرتی ہے۔

انھوں نے رائے دی کہ پاکستان کا ترقی کا ماڈل نامکمل ہے کیونکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہمیشہ معاشی ترقی کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ انھوں نے تاجروں سے کہا کہ ہمارا تخیل محدود ہے اور وزرائے خزانہ آپ جیسے لوگوں سے ملتے ہیں اور ٹائیکون کو امیر بناتے ہیں۔جب ہم ایسا کرتے ہیں تو ہماری درآمدات میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ ہماری کھپت کی ٹوکری بہت بڑی ہوتی ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے دورمیں اوسط قرض 5177 ارب روپے تھا جبکہ پی ایم ایل این کے سابق دورمیں یہ 2132 ارب روپے تھا اورقرض کی رقوم کو بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے استعمال کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ 71سال کے عرصے میں فوجی آمروں سمیت ملک کے حکمرانوں نے 25 ہزار ارب روپے کے قرضے لیے جبکہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے چار سال کے عرصے میں 20 ہزار ارب روپے کے قرضے لیے تھے۔گذشتہ 71 سال میں پاکستان کی حکومتوں کی جانب سے لیے گئے تمام قرضوں کا یہ 80 فی صد ہے، اس کے نتیجے میں قرضوں کی ادائی میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ ’’جتنا زیادہ قرض لیں گے، اتنا ہی آپ کو ادا کرنا پڑے گا۔

ملک میں تاجروں کو درپیش مسائل کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت گیس اور بجلی کی ترسیل کو یقینی بنائے گی۔بجلی کے شعبے میں حکومت نے 1072 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے اور یہ 1100 ارب روپے تک جا سکتی ہے مگرجب تک ہم بجلی کے شعبے میں اصلاحات نہیں لاتے اور اچھی حکمرانی نہیں لاتے، اس وقت تک یہ ہمارے گلے کا بنا طوق رہے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں