پاکستان کے قومی بجٹ کے حوالے سے ماہرین معیشت ملی جلی آرا کا اظہار کر رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے وزیر اعظم میاں شہباز شریف کے زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پیش کر دیا ہے۔

ہفتے کے روز وہ ایک بڑی پریس کانفرنس کریں اور چند دن بعد بڑے ہی آرام سے حکومت بجٹ منظور کرانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ بجٹ تقریر میں ان کی رک رک کر بہنے والی الفاظ کی روانی اپنی جگہ مگر وطن عزیز کے اقتصادی ماہرین نے اس بجٹ پر ملی جلی آرا ہی دی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بجٹ کے آنے کے ساتھ ہی ملک بھر ملکی معیشت کے سیاہ و سفید میں بڑے ستیک ہولڈرز نے اپنے اپنے فورمز کے اجلاس بلا لیے اور ماہرین کی موجودگی میں بجٹ کی خوبیوں اور کامیوں کا جائزہ لیا۔

لاہور میں چیمبر آف کامرس میں بجٹ تقریر پرانی روایت کے مطابق بڑے بڑے تاجروں اور صنعتکاروں نے مل کر سنی ۔ ایف پی سی سی آئی کے عہدے داروں نے بھی اجتماعی طور پر بجٹ تجاویز کا جائزہ لیا، اپوزیشن کی سب سے بڑی ججماعت پی ٹی آئی نے بھی اپنے انداز میں بجٹ پر نقدو نظر کے لیے اعداوشمار کے کئی نکات اور پلندے تیار کیے۔ پی ٹی آئی کی جو بھی رائے ہو گیی وہ بلا شبہ اس کی سیاست میں دھلی ہوئی ہو گی۔

مگر جن ماہرین سے العربیہ کو بات کرنے کا موقع ملا ان کی رائے بھی بجٹ کے بارے میں اچھی نہیں بلکہ ایک کے بقول بجٹ جیسی ہے۔ ڈاکٹر قیس اسلم خالص عوامی انداز میں سوچنے والے ماہر معیشت ہیں انہوں نے انکم ٹیکس کی کم سے کم حد چھ لاکھ سے بارہ لاکھ کرنے کو سراہا کہ یہ بہت اچجھا اقدام ہے۔ انہیں دیا میر بھاشا ڈیم کے لیے مختص کی گئی رقم پر بھی خوشی تھی مگر اس بارے میں ان کی رائے یہ بھی تھی کہ جتنا بڑا پانی اور بجلی کا چیلنج قوم کو درپیش ہے

اس میں اس ڈیم کے جلد مکمل ہونے کی نوید تو وزیر اعظم نے وزارت عظمی سنبھالنے کے اگلے ایک دو دنوں میں ہی سنا دی تھی، تاہم بارہ ارب کی رقم اس سال اس کی تعمیر پر خرچ کرنے کا صاف مطلب ہے کہ وزیر اعظم کی مرضی کی تعمیر کی رفتار اس بارہ ارب سے ممکن نہیں ہوگا، بلکہ ڈیم کی تعمیر میں جیسے جیسے تاخیر ہوتی جائے گی اس کا بجٹ مہنگائی کے بڑھ جانے کی وجہ سے بہت بڑھ جائے گا اور جلدی کے خواب دوری میں چلے جائیںگے۔

کسانوں کے لیے بجٹ میں تجویز کی گئی ترغیبات کے بارے میں ان کا کہنا تھا بہت اچھی بات ہے مگر کسان کو فصلوں کے لیے پانی بھی تو چاہی۔ پانی کے لیے ایک تعمیراتی ہدف کے حوالے سے دور افتادہ پڑھے صرف دیامیر سے کام نہیں چلے گا، کئی اور ڈیموں کی ضرورت ہو گی۔ ان کا تو کوئی ذلر بجٹ میں نہین تھی۔ پھر کسان کو تیل اور بجلی کی ضرورت ہوتی ہے یہ دونوں چیزیں تو اتنی زیادہ مہنگی ہو گئی ہیں اور انے والے قریبی دنوں میں مزید مہنگی کرنی پڑیں گی تو پھر کسان کو ان رعائتوں سے کیا ملے گا۔ بجلی کے سستی نہ ہو سکنے کے باوجود وہ سولر پینلز کے حوالے سے خوش تھے کہ اس سے بجلی کے خرچے کم کرکے ہر کوئی مفت کی شمسی توانائی سے بجلی بنا لے گا۔

مگر فیڈریشن کے ایک اعلی عہدے فدار نے اس بارے میں ساف کہہ دیا کہ سولر پیلز کے سستا کرنے سے بجلی کی قلت پوری نہ ہو گی۔ اس کے لیے حکومت کو نجی شعبے کے پاس موجو د بجلی کی خرایداری کے معاہدے کرنا ہون گے۔ بصورت دیگر یہ سولر پینلز والا معاملہ محض ایک نئی چیز کے طور پر آئے گا اور اس کے بعد مسائل پھر وہیں کے وہیں ہوں گے۔

ادھر پروفیسر قیس اسلم نے حکومت کے آئی ایم ایف کے سارے مطالبات کو مان لینے کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا ۔ حکومت نے قوم کے مشکل معاشی حالات میں بجٹ عوام کی نہیں آئی ایم ایف کی مرضی کا دیا ہے آور اگلے دنوں میں بھی فیصلےاسی کے اشاروں پر ہوں گے۔ یقینا اس سے عوام کو سہولت بس دعووں اور وعدوں کی شکل میں ہی ملے گی عملی طور پر نہیں۔ ان کا یہ بھی خدشہ تھا کہ مہنگائی کم ہونے کی کوئی صورت فی الحال سامنے نہیں ائے گی کہ حکومت نے افراط زر کو کم کرنے کی سوچ کا اظہار جس طرح کیا ہے وہ افراط زر کم کرنے والا نہیں اسے قائم رکھنے والا ہے۔ اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ دالر بھی زیادہ نیچے نہیں آسکے گا۔ روپیہ ہی نیچے رہے گا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ پھر افراط زر بڑھے کی مہنگائی کا زور ہوگا۔ اور ایسا زور ہو گا کہ حکومت کے پاس اس کا کوئی توڑ نہیں ہوگا۔

البتہ معاشرے کے اعلی طبقات کے لیے اس بجٹ میں کوئی نقصان والی بات کم ہی ہوگی۔ جو تھوڑے بہت ٹیکس بڑھیں گے وہ بعد کی بات ہے۔ مشکل تر عوام کے لیے ہوگی۔ کہ مہنگائی کا سارا رخ عام آدمی کی طرف ہوگا۔۔قرضوں کا پرانا گھن چکر جاری رہے گا اور قرضوں پر قرضے لیے جاتے رہیں گے۔ پرانے قرضے ادا کرنے کے لیے نئے نئے قرضے لیے جائیں گے۔ بظاہر حکومت عا،م آدمی کو سہولتیں دے گی مگر اگلے ہی لمحے واپس بھی لے رہی ہو گی۔ ڈاکٹر سلمان شاہ کے نزدیک اسی وجہ سے اس بجٹ میں بھی کچھ نیا نہیں ہے۔ وہی حکومتوں کی معاشی کارستانی ہے جسے روایت کے طور پر بجٹ کہا جاتا ہے۔ اس بجٹ سے عام لوگوں کا کچھ نہیں بدلے گا۔

ایک بڑے صنعت کار کے طور پر عمر رحمان نے کہا اگر حکومت نے انڈسٹری کو فوکس میں رکھا ہوتا تو کاسٹ اینڈ پورڈکشن کے اصول کو نظر انداز کر کے بجٹ نہ بجاتی۔ جب اس کا خیال نہیں رکھا جائے گا تو لازمی بات ہے کہ پروڈکشن پر اثر پڑے گا ، اگر کسی کے پاس ایکسپورٹ کا موقع ہو گا بھی تو اسے لاگت کی وجہ سے کچھ ہاتھ آئے گا نہ ملک کو کچھ ملے گا کہ ایکسپورٹ تب ہوگی جب اندسٹری چلے گی لاگت کم ہو گی اور دوسرے ملکوں کے مقابلے میں ہیں بجلی ، گیس کم نرخوں پر ملیں گے۔ لیکن یہاں تو گیس اور بجلی کی کمی ایک بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔ جو صوبوں کو رقم وفاقی حکومت دیتی ہے وہ کافی بڑی رقم ہے اسے فی الحال ترقیاتی کاموں میں نہ بھی لگایا جاتا تو گذارا ہو سکتا تھا۔ ساڑھے چار کروڑ پاکستانی غربت سے نیچے جا چکے ہیں۔ ابھی مزید لوگوں کے جانے کا خدشہ ہوگا۔

ان کے بقول حکومت نے ٹیکسوں کی لیکج روکنے کا بھی کوئی ارادہ طاہر کیا ہے نہ کوئی طریقہ بتایا ہے۔ اس صورت حال میں تو خطرہ ہے کہ یہ لیکج مزید بڑھ جائے گی۔ ٹیکس لیں مگر اتنا لیں جتنا بنتا ہو۔ اس کے حوالے سے صنعتکاروں سے ٹیکس لینے کے لیے سلیب سسٹم متعار کرا جا سکتا ہے تاکہ جس کی پروڈکش زیادہ وہ زیادہ ٹیکس دے جس کی پروڈکشن کم ہوتو اس سے اسی کے مطابق کم شرح سے ٹیکس لینا چاہیے۔ حکومت نے بعض چیزوں کی درآمد پر پابندی لگائی ہے لیکن بہت مہنگی آئٹم لیپ ٹیپ بڑی تعداد میں خود کی درامد بھی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ کام کیے بغیر بھی گذارا ہو سکتا تھا کہ اس سے تجارتی خسارہ کم ہوجاتا۔ کوئی بھی فیصلہ کرنے کے لیے اپنی سمت کو درست کرنا اور پھر ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر فیصلے کرنا معاشی بہتری لانے کے لیے ضروری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں