خرابی صحت کی وجہ سے قیادت پرویز مشرف کی وطن واپسی کے حق میں ہے: میجر جنرل بابر افتخار

پرویز مشرف سے ذاتی دشمنی نہیں، آنا چاہیں تو حکومت سہولت فراہم کرے: نواز شریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ’پرویز مشرف کی صحت بہت خراب ہے، اللہ انہیں صحت دے۔ لیڈر شپ کا مؤقف ہے کہ پرویز مشرف کو واپس آ جانا چاہیے۔

فوج کے ترجمان نے منگل کو نجی ٹی وی ’دنیا نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے پرویز مشرف کی واپسی کا فیصلہ ان کے خاندان نے کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کو واپس لانے کیلئے ان کے خاندان سے رابطہ کیا گیا۔ جنرل مشرف کی فیملی کے جواب کے بعد انتظامات کیے جا سکتے ہیں۔

ادھر دوسری جانب سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر سابق فوجی صدر پرویز مشرف پاکستان واپس آنا چاہیں تو حکومت انھیں سہولت فراہم کرے۔ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ ’میری پرویز مشرف سے کوئی ذاتی دشمنی یا عناد نہیں۔

’نہیں چاہتا کہ اپنے پیاروں کے بارے میں جو صدمے مجھے سہنا پڑے، وہ کسی اور کو بھی سہنا پڑیں۔ ان کی صحت کے لیے اللّہ تعالی سے دعاگو ہوں۔ وہ واپس آنا چاہیں تو حکومت سہولت فراہم کرے۔‘

’دنیا نیوز‘ کو انٹرویو میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے ایک مرتبہ پھر اس امر کا اعادہ کیا ’’کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں عسکری قیادت موجود تھی۔ واضح طور پر شرکاء کو بریف کیا گیا، کہ کسی قسم کی سازش کے شواہد نہیں، ایسا کچھ نہیں ہوا، شرکاء کو مفصل انداز میں بتایا گیا کہ کسی سازش کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آرمی چیف نے چین کا اہم دورہ کیا۔ چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کی سکیورٹی پاک فوج کو دی گئی۔ سی پیک کی سکیورٹی میں کوئی کمی آنے نہیں دی۔

میجرجنرل بابر افتخار کا مزید کہنا تھا کہ آرمی چیف کا دورہ چین بہت اہم تھا۔ پاکستان چین کے تعلقات بہت اسٹریٹجک نوعیت کے ہیں۔ پاک چین تعلقات خطے میں امن کیلئے اہم ہیں۔ سی پیک منصوبوں کی سکیورٹی میں کوئی کمی نہیں آنے دی۔ سی پیک کی سکیورٹی خصوصی طور پر پاک فوج کو دی گئی۔ سی پیک منصوبوں کی سکیورٹی پر 24 گھنٹے کام کیا جا رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آرمی چیف نے دورے میں چینی صدر سے بھی ملاقات کی۔ چین نے پاکستان کی دفاعی قوت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا، جب بھی ہر سال بجٹ پیش ہوتا ہے تو دفاعی بجٹ پر بحث ہوتی ہے۔ دفاعی بجٹ تھریٹ پرسیپشن، چیلنجز، تعیناتی کی نوعیت، وسائل کو دیکھتے ہوئے رکھا جاتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کا بڑھتا ہوا دفاعی بجٹ اپنے سامنے رکھ لیں۔ 2020 سے پاکستان فوج نے اپنے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔ مہنگائی کی شرح سے دیکھیں تو دفاعی بجٹ کم کیا گیا۔ مسلح افواج کا بجٹ جی ڈی پی کی شرح کے لحاظ سے مسلسل نیچے جا رہا ہے۔ ہم نے 100ارب روپے بجٹ کم لیا ہے۔ ہم نے یوٹیلیٹی بلز کی مد میں اخراجات کو محدود کیا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی بچت کیلئے غیر ضروری نقل وحرکت کم کر دی گئی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ غیر ضروری نقل وحرکت کم کی ہے. کانفرنسز آن لائن کر دی گئی ہیں۔ پچھلےسال کرونا کی مد میں ملنے والے 6 ارب حکومت پاکستان کو واپس کیے ہیں۔ فوجی فاؤنڈیشن سے سالانہ 20 لاکھ سے زائد مریض صحت یاب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے کچھ عرصے سے افواج اور عسکری قیادت کیخلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے حالیہ سیشن پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔ ’پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے کے لیے انڈیا کی طرف سے بہت لابنگ ہوئی اور انڈیا چاہتا ہے کہ کسی طریقے سے پاکستان کو بلیک لسٹ کر دیا جائے۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں