پنجاب اسمبلی اور اس کے اختیارات صوبائی محکمہ قانون کے حوالے کر دیے گئے

اسپیکر پنجاب اسمبلی کے اختیارات محدود، اجلاس بلانے کا اختیار سیکریٹری قانون کے سپرد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پنجاب کابینہ کی منظوری کے بعد گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے اسپیکر پنجاب اسمبلی کے اختیارات محدود کرنے اور اجلاس بلانے کا اختیار سیکریٹری قانون کے سپرد کرنے کا آرڈیننس جاری کر دیا ہے۔

پنجاب حکومت کے ترجمان عطا تارڑ نے سینئر رہنما ملک احمد خان کے ہمراہ بدھ کو نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اب ایوانِ اقبال میں بلائے گئے اجلاس میں بجٹ پیش کرنے کو آئینی اور قانونی تحفظ حاصل ہو گیا ہے۔

عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ گورنر پنجاب نے تین آرڈیننس جاری کیے ہیں جس کے تحت پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ کا عملہ اب سیکریٹری قانون کے ماتحت ہو گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کو لامحدود اختیارات حاصل تھے۔ آئین میں درج ہے کہ گورنر جب چاہیں کسی بھی جگہ پر اجلاس بلا سکتے ہیں۔ عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ اب اسمبلی اجلاس بلانے کا نوٹی فکیشن جاری کرنے کا اختیار سیکریٹری اسمبلی کے بجائے سیکریٹری قانون کے پاس ہو گا۔

تحریکِ انصاف کے سینئر رہنما فواد چوہدری نے پنجاب حکومت کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کبھی مارشل دور میں بھی نہیں ہوا کہ اسمبلی کو انتظامیہ کے ماتحت کر دیا گیا ہو۔

خیال رہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق اسمبلی کے دو الگ الگ اجلاس بلائے گئے ہیں۔ ایک اجلاس حکومت اور اتحادی جماعتوں کی طرف سے جب کہ دوسرا حزبِ اختلاف اور اُن کی ہم خیال جماعتوں نے طلب کیا ہے۔

ایسا پہلی مرتبہ ہو گا کہ پنجاب کے بجٹ کے لیے دو بجٹ اجلاس ایک ساتھ بدھ کو ہوں گے۔ بیک وقت دو مختلف مقامات پر بجٹ اجلاس بلانے پر اسمبلی اسٹاف بھی کشمکش کا شکار ہے کہ اُنہوں نے اپنے سرکاری فرائض کی انجام دہی کے لیے کہاں جانا ہے۔

گورنت پنجاب نے تین آرڈیننس جاری کیے ہیں
گورنت پنجاب نے تین آرڈیننس جاری کیے ہیں

اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کی زیرِ صدارت اجلاس میں حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتیں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم (ق) شریک ہوں گی اور یہ اجلاس اسمبلی ہال میں ہو گا۔ جب کہ دوسرا اجلاس ایوانِ اقبال میں ہو گا جس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر سردار دوست محمد مزاری کریں گے۔

پنجاب حکومت گزشتہ دو روز سے اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش نہیں کر سکی۔ جس کے بعد گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمٰن نے بجٹ اجلاس ایوانِ اقبال میں طلب کیا ہے۔ تاہم اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے گورنر پنجاب کا طلب کردہ اسمبلی اجلاس غیر قانونی قرار دیا ہے۔

منگل کو آٹھ گھنٹے تاخیر کے باوجود پنجاب اسمبلی میں بجٹ اجلاس کی کارروائی شروع نہیں ہو سکی تھی۔ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان اب تک ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

پنجاب اسمبلی سیکرٹیریٹ حکام کے مطابق اسپیکر پرویز الٰہی اجلاس میں آئی جی پنجاب پولیس اور چیف سیکریٹری کو بلانا چاہتے تھے تاکہ ان سے گزشتہ ماہ تحریکِ انصاف کے لانگ مارچ کو روکنے کی وضاحت مانگی جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں