پی ٹی آئی کے ’سازشی دعوے‘ پراستردادی تبصرے سیاسی نہیں:ڈی جی،آئی ایس پی آر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (انٹرسروسزپبلک ریلیشنز،آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹرجنرل (ڈی جی) میجرجنرل بابرافتخار نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ایک روز قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابقہ حکومت کے خلاف کوئی غیرملکی سازش نہ ہونے کے بارے میں ان کے تبصرے سیاسی نوعیت کے تھے۔وہ پارٹی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے دعوے کو مسترد کرنے پر پی ٹی آئی رہنماؤں کے اعتراض کا جواب دے رہے تھے۔

میجرجنرل بابرافتخار نے منگل کو پاکستانی ٹی وی چینل دنیا نیوزکے اینکرکامران شاہد کے ساتھ انٹرویو میں دوٹوک الفاظ میں عمران خان کے سازشی دعوے کو مسترد کردیا تھا۔عمران خان مسلسل یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ انھیں مقامی کھلاڑیوں کی مدد سے امریکا کے حمایت یافتہ ہتھکنڈوں کے ذریعے وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے بے دخل کیا گیا تھا۔

عمران خان کے سازشی الزام کا مرکزی نکتہ ایک سفارتی کیبل تھی۔اس سے متعلق قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کے پہلے اجلاس کے بارے میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ اس میں اعلیٰ فوجی قیادت نے شرکت کی تھی اور ’’شرکاء کوایجنسیوں کی جانب سے واضح اور تفصیلی طورپرآگاہ کیا گیاتھا کہ کسی قسم کی سازش یا اس کا کوئی ثبوت فراہم نہیں ہوا ہے‘‘۔

ان کے ان تبصروں پر پی ٹی آئی کے رہ نماؤں اسدعمر اور شیریں مزاری نےبدھ کو سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔انھوں کہا کہ یہ تبصرے سیاسی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہیں اور یہ ایک حقیقت سے زیادہ محض’’رائے‘‘ کا درجہ رکھتے ہیں۔

ان کی پریس کانفرنس کے چند گھنٹے کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک اور ٹیلی ویژن چینل ہم نیوز کے پروگرام بریکنگ پوائنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے کوئی سیاسی بیان نہیں دیا بلکہ یہ پاکستان کے سروسز چیفس کی جانب سے وضاحت تھی‘‘۔

ڈی جی آئی ایس پی آرنے کہا کہ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے گذشتہ ہفتے ایک شو میں دعویٰ کیا تھا کہ 31 مارچ کواین ایس سی کے اجلاس میں سروسز کے کسی سربراہ نے یہ نہیں کہا تھا کہ سازش نہیں ہوئی۔

فوجی ترجمان نے کہا کہ ’’وہ (شیخ رشید) ایک طرح سے یہ بتانے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ ان (فوج) کے نمائندے کی حیثیت سے بات کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اسی پروگرام میں جانا اور سروسز چیفس کی جانب سے اس کی وضاحت کرنا ضروری سمجھا کیونکہ میں ان کا ترجمان ہوں۔ اس میں کوئی سیاسی بات نہیں ہے‘‘۔

انھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ این ایس سی کے اجلاس کے بارے میں ان کی وضاحت محض ایک ’’وضاحت‘‘ ہے اور اس کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں۔

میجرجنرل بابرافتخار نے اس تصور کو مسترد کردیا کہ اجلاس اوراس کے نتیجے کے بارے میں ان کے تبصرے ’’رائے‘‘تھے بلکہ سروسز چیفس کی جانب سے، میں آپ کو بتاسکتا ہوں کہ این ایس سی اجلاس میں بریفنگ اور اس کا نتیجہ کوئی رائے نہیں تھی بلکہ یہ انٹیلی جنس پر مبنی معلومات تھیں اور یہ نتیجہ ان پٹ حقائق کو دیکھ کر اخذ کیا گیا تھا‘‘۔

انھوں نے وضاحت کی کہ ’’یہی وجہ ہے،اس کے بعد این ایس سی کے پہلے اجلاس کے بعد جاری کردہ پریس ریلیز میں اس وقت پی ٹی آئی کے اقتدار میں ہونے کے باوجود سازش کے کسی عنصر کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ یہ رائے نہیں کہی جا سکتی، یہ ایک مناسب مختصر بات تھی‘‘۔

انھوں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ میں دوبارہ اس تمام معاملے کے بارے میں بات کروں گا۔انھوں نے واضح کیا کہ انھیں سازش کے دعوے پر دالتی کمیشن کی تشکیل پر کوئی تحفظات نہیں ہیں، فوجی اور انٹیلی جنس ادارے حکومت کوہرفورم پر مکمل مدد مہیا کریں گے تاکہ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے۔

پی ٹی آئی رہنماؤں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے’سیاسی معاملات‘ حل کرنے کی ضرورت پرزور دینے پر سوال اٹھایا ہے۔

اس سے قبل پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے اسلام آباد میں ایک روز قبل فوجی ترجمان کے انٹرویو کےردعمل میں پریس کانفرنس کی تھی۔انھوں نے کہا کہ یہ بات ان کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے پلیٹ فارم سے اس مسئلہ کو دوبارہ حل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے؟

انھوں نے کہا:’’ڈی جی آئی ایس پی آر بجا طور پر کہتے ہیں کہ فوج کو سیاست سے دور رکھا جائے اور وہ سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوج کو سیاست میں ملوث نہ کریں اور یہ درست بات ہے۔اب چاہے یہ درآمدی حکومت مداخلت یا سازش کے ذریعے آئی ہو یا نہیں، سیاسی جماعتوں کواس بارے میں ایک دوسرے سے بات کرنے دیں‘‘۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ وہ این ایس سی کے اس پہلے اجلاس کا حصہ تھے اور جب سفارتی خط پڑھ کر سنایا جا رہا تھا تو ایک فوجی نمائندے نے حقائق اور آراء کو الگ سے دیکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان ’’حقائق‘‘کی وضاحت کرتے ہوئے اسدعمر نے کہا کہ یہ لکھا گیا ہے کہ پاکستان کو’’واضح دھمکی‘‘دی گئی ہے کہ اگرعمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تو ملک کو’’تنہائی اور مشکلات‘‘ کا سامنا کرناپڑے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں