فیٹف کی گرے لسٹ سے متعلق پاکستان کی قسمت کا فیصلہ آج ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس [فیٹف] کی گرے لسٹ میں برقرار رکھنے یا نکالنے سے متعلق فیصلہ آج کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق برلن میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس کا آخری دن ہے۔ سربراہ ایف اے ٹی ایف آج پریس کانفرنس میں گرے لسٹ سے نکالے گئے ممالک کا اعلان کریں گے۔

اجلاس میں پاکستان سمیت دیگر ممالک کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، پاکستانی وفدکی قیادت وزیر خزانہ کے بجائے وزیر مملکت حنا ربانی کھر کر رہی ہیں۔ پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے امکانات روشن ہیں۔

سابق حکومت نے فیٹف کے ستائیس میں سے چھبیس پوائنٹس پر عملدرآمد کر دکھایا تھا، بھارتی لابی نے پاکستان کیلئے بہت مشکلات پیداکیں لیکن پاک فوج نے بھارت کی سازش ناکام بنائی۔

آرمی چیف کےحکم پرجی ایچ کیو میں میجر جنرل کی سربراہی میں اسپیشل سیل قائم کیا گیا۔ اس سیل نے مختلف محکموں، وزارتوں اور ایجنسیزکے درمیان کوآرڈینیشن میکنزم بناتے ہوئے ایک مکمل ایکشن پلان بنایا گیا۔

ایکشن پلان پر تمام محکموں، وزارتوں اور ایجنسیز سے عمل درآمد کرایا گیا، منی لانڈرنگ، دہشت گردوں کی مالی معاونت،بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ پر قابو پایا گیا۔

ان اقدامات کے نتیجے میں ایف اے ٹی ایف میں کامیابی حاصل ہوئی، دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے پر نمایاں پیشرفت ہوئی اور منی لانڈرنگ کے سدباب کیلئے سات میں سے چار پوائنٹس پر عمل درآمد ہوا۔

دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی مالی معاونت پر تحقیقات اور قانونی کارروائی کی گئی۔ سیاہ دھن کو سفید کرنے سے متعلق قانون میں ترامیم کی گئیں جبکہ اینٹی منی لانڈرنگ اور کاؤنٹر فائننسنگ آف ٹیرر ازم کی حوصلہ شکنی کی گئی۔

فارن ایکسچینج ریگولیٹری ایکٹ میں ترامیم کی گئیں۔ حوالہ اور ہنڈی نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر اور فوری ایکشن ہوا اور ساتھ ہی باہمی قانونی معاونت کے ایکٹ میں بھی ضروری ترامیم کی گئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں