بلوچستان: ہرنائی میں تعمیراتی کیمپ پر حملے میں 3 مزدور جاں بحق، 7 لاپتا

ماضی میں داعش جیسی انتہا پسند تنظیمیں ایسے واقعات کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے نواحی علاقے چھپر رفٹ میں مزدوروں کے کیمپ پر دہشت گردوں کے حملے میں 2 مزدروں زخمی جب کہ 6 لاپتا ہو گئے۔

لیویز ذرائع کے حوالے مقامی میڈیا پر نشر ہونے والی خبروں کے مطابق دہشت گردوں نے کیمپ میں موجود مزدوروں پر فائرنگ کی، جس سے وہ زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق ایک مزدور کی حالت تشویش ناک ہے۔ واقعہ جمعہ 17 جون کو رات گئے پیش آیا۔ حملے میں مشينری کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ حملہ آوروں نے مزدوروں کے کیمپ اور مشینری کو آگ بھی لگائی۔

واضح رہے کہ نجی تعمیراتی کمپنی کے مزدور کوئٹہ ہرنائی سڑک کی تعمیر پر کام کر رہے تھے۔

لیویز حکام نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے کے بعد 6 مزدور لاپتا ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق حملے کے وقت کیمپ میں 16 مزدور موجود تھے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار فائرنگ کی جگہ پہنچ گئے۔

واقعہ کی رپورٹ طلب

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے ہرنائی کے قریب مزدورں کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ دہشت گردوں کے عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے اوروہ جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔ اس کے علاوہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنےکی ہدایت کی۔

ذرائع کے مطابق کیمپ میں 100 کے قریب مزدور موجود تھے، تاہم سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہ ہوسکی۔

انسانی حقوق کمیشن

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیم ( ایچ آر سی پی ) کی جانب سے بھی بلوچستان میں مزدوروں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر پر زور مذمت کی جاتی ہے۔

ایچ آر سی پی کے مطابق یہ بات ناقابلِ قبول ہے کہ مزدوروں کو ان علاقوں میں مناسب سیکیورٹی فراہم نہیں کی جاتی جو سیاسی طور پر حساس سمجھے جاتے ہیں اور جہاں ایسے حملوں کا خطرہ موجود رہتا ہے۔

دہشت گرد تنظیمیں

ایسی صورت حال میں مزدوروں کے تحفظ کی ذمہ داری براہ راست طور پر ان کے آجروں پر عائد ہوتی ہے جنہیں اس بات کو یقینی بنائے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کرنے چاہئیں کہ کسی بھی منتخب کردہ علاقے میں ان کے آپریشن مزدوروں کی زندگیوں کو غیر ضروری خطرے میں نہ ڈالیں۔ جہاں ایسا خطرہ موجود ہو وہاں آجر اپنے ملازمین کو باقاعدہ اور مناسب سیکیورٹی فراہم کرنے کے پابند ہیں۔

ماضی کے واقعات

قبل ازیں ضلع مستونگ میں ستمبر سال 2012 میں بھی سڑک کی تعمیر کے منصوبے پر کام کرنے والے مزدوروں پر حملہ کیا گیا تھا جس میں 10 مزدور جاں بحق ہوئے تھے۔ جاں بحق مزدوروں کا تعلق کوئٹہ کے علاقے سریاب سے تھا۔ حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم یونائیٹد بلوچ آرمی نے قبول کی تھی۔ سرکاری حکام ان حملوں کو دہشت گردی کے واقعات اور یہاں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے اقدامات قرار دیتے رہے ہیں۔

اس کے برعکس جو تنظیمیں ان کارروائیوں بالخصوص سڑکوں کی تعمیر کے منصوبوں پر کام کرنے والوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہیں ان کا کہنا ہوتا ہے کہ یہ منصوبے بلوچ عوام اوران کے مفاد کے خلاف ہیں اور یہ عسکری نقل و حمل کے لیے بنائے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ جنوری سال 2021 میں بلوچستان کے ضلع بولان کی تحصیل مچھ میں ہفتے اور اتوار کی شب دہشت گردوں نے کوئلے کی کان میں کام کرنے والے 11 مزدوروں کو قتل کردیا تھا۔ دہشت گردوں نے مزدوروں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انہیں ذبح کیا تھا۔ واقعہ کی ذمہ داری کالعدم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں