اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایمان مزاری کے خلاف ہرزہ سرائی کیس خارج کر دیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مقدمہ ختم کر کے ضمانت کی درخواست غیر موثر قرار دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کے کیس میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری کے خلاف فوج کی جانب سے درج ایف آئی آر خارج کر دی ہے۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے متنازعہ بیان پر اندراج مقدمہ کے خلاف ایمان مزاری کی درخواست منظور کرتے ہوئے مقدمہ ختم کر کے ضمانت کی درخواست غیر موثر قرار دیدی ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ایمان مزاری اپنے کہے پر ندامت کا اظہار کر چکیں ہیں۔

یاد رہے کہ اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی اور دھمکیاں دینے کی دفعات کے تحت ایمان مزاری ایڈووکیٹ کے خلاف مقدمہ لیفٹیننٹ کرنل ہمایوں افتخار ایڈووکیٹ جنرل ہیڈکوارٹر کی شکایت پر تھانہ رمنا میں مقدمہ درج کرایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری نے21 مئی ہائیکورٹ کی حدود میں ایک بیان میں پاک فوج کی سینئر ملٹری لیڈرشپ کو برا بھلا کہا۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق اس بیان سے پاکستان آرمی کے رینکس میں بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی گئی۔ ایمان مزاری نے پاکستان آرمی کے اندر نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی جو سنجیدہ جرم ہے۔

ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری نے اپنے بیان سے پاکستان آرمی کی سینئر کمانڈ کی بھی توہین کی۔ اس طرح کے بیان سے پاکستان آرمی کے اندر بے چینی اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی۔ ایسے بیانات پاکستان آرمی اور سینئر لیڈرشپ کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ایسے بیانات قابل تعزیز جرم ہیں، ان جرائم کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں