.

سندھ ہائی کورٹ نے پولیس کو عامر لیاقت کی قبر کشائی سے روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سندھ ہائی کورٹ نے ٹی وی میزبان ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے پوسٹ مارٹم کے لیے قبر کشائی کے احکامات پر حکمِ امتناع جاری کر دیا ہے اور پولیس کو قبر کشائی سے روک دیا ہے۔

وائس آف امریکہ کے نمائندے محمد ثاقب کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس جنید غفار اور جسٹس امجد سہتو پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے اہلِ خانہ کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔

متوفی کے اہلِ خانہ نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ مجسٹریٹ نے دو مرتبہ عامر لیاقت حسین کی لاش کا جائزہ لیا تھا اس لیے پوسٹ مارٹم کی ضرورت نہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق درخواست گزار کے وکیل ضیا اعوان ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے اہلِ خانہ کو لگتا ہے کہ ان کی موت ذہنی تناؤ کے سبب ہوئی ہے۔

بدھ کو سندھ ہائی کورٹ نے متوفی کے اہلِ خانہ کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے پوسٹ مارٹم پر حکم امتناع جاری کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ چار روز قبل کراچی میں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی وزیر حسین میمن کی عدالت میں ڈاکٹر عامر لیاقت کا پوسٹ مارٹم کرانے کے لیے عبدالاحد نامی شہری نے درخواست دائر کی تھی۔

مذکورہ درخواست میں عبدالاحد نے مؤقف اپنایا تھا کہ عامر لیاقت کی موت سے شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں اس لیے ان کی قبر کشائی کا حکم دیتے ہوئے پوسٹ مارٹم کرایا جائے۔

جوڈیشل میجسٹریٹ نے عامر لیاقت کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے چھ رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیاتھا جس نے عبد اللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں ان کی قبر کشائی جمعرات (23جون) کی صبح کرنی تھی۔

ضیا اعوان ایڈووکیٹ کے مطابق ڈاکٹر ​عامر لیاقت کے اہلِ خانہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے رجوع کریں گے تاکہ اس حوالے سے مزید کارروائی ہو سکے۔

خیال رہے کہ سابق رکنِ قومی اسمبلی اور ٹی وی میزبان عامر لیاقت حسین 9 جون کو کراچی کے علاقے خداداد کالونی میں واقع اپنے گھر میں انتقال کرگئے تھے۔ جنہیں بعد ازاں کلفٹن کے علاقے میں واقع عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں سپردِخاک کیا گیا تھا۔

ان کی اچانک موت نے کئی سوالات کو جنم دیا تھا اور موت کی وجہ جاننے کے لیے پولیس نے بھی پوسٹ مارٹم کرانے کی کوشش کی تھی اور مجسٹریٹ سے رجوع کیا تھا۔ تاہم مرحوم کی سابقہ بیوی بشریٰ اقبال نے کہا تھا کہ اُن کے وارثین بیٹا اور بیٹی بغیر پوسٹ مارٹم کے اُن کی تدفین چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں