افغان زلزلہ متاثرین کے لیے پاکستان سے امدادی سامان خوست پہنچ گیا

پاکستان ایئر فورس کا مال بردار طیارہ سنیچر کے روز امدادی سامان لے کر خوست ہوائی اڈے پر اترا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان فوج کا مال بردار جہاز افغانستان میں زلزلے سے متاثرین کے لیے امدادی سامان لے کر سنیچر کے روز خوست ہوائی اڈے پر اترا۔ حکام کے مطابق امدادی سامان میں خیمے، خوراک، طبی سامان اور ادویہ شامل ہیں۔

مشرقی افغانستان میں آنے والے شدید زلزلے کے بعد ہزاروں افراد زخمی اور بے گھر ہوئے ۔ سرکاری میڈیا کے مطابق زلزلے میں 1150 افراد جاں بحق ہوئے، جمعے کے روز محسوس کئے جانے والے آفٹر شاکس کے نتیجے میں بھی پانچ افراد لقمہ اجل بن گئے۔

بدھ کے روز افغانستان میں آنے والے زلزلے کی شدت ریختر اسکیل پر 6 بتائی گئی اور افغانستان میں کام کرنے والی اقوام متحدہ کی چلڈرن ایجنسی کے نمائدنے کے مطابق اس میں جاں بحق ہونے والوں میں 121 بچے شامل تھے۔

کابل میں پاکستان کے سفیر منصور احمد خان نے بتایا کہ پاکستان کی طرف سے افغانستان بھیجی جانے والی امدادی اشیاء طالبان حکام کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’’کہ مشکل کی اس گھڑی میں افغان بھائیوں کی مدد کرنا ہمارا فرض تھا،‘‘

اس سے پہلے پاکستانی حکومت اور الخدمت نامی غیر حکومتی امدادی ادارے نے زلزلہ متاثرین کی امداد کے لیے تیرہ ٹرکوں پر مشتمل کھیپ متاثرہ علاقوں میں بھجوائی تھی جس میں زندگی بچانے والی ادویہ، خیمے اور خوراک شامل تھی۔

پاکستانی ڈاکٹروں اور معاون طبی عملے پر مشتمل انیس رکنی ٹیم پہلے ہی خوست میں زلزلہ متاثرین کے علاج معالجے کے لیے طالبان کے زیر نگیں خوست کے علاقے میں موجود تھی۔

طالبان کی وزارت دفاع امدادی کارروائیوں کی سربراہی کر رہی ہے اور زلزلے کے بعد حکومت نے عالمی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں طبی کارکنان اور ضروری سامان بھیج رہے ہیں اور پڑوسی ملک پاکستان میں موجود فلاحی ادارے بھی معاونت کر رہے ہیں۔

انسانی امداد کا سلسلہ جاری تو ہے لیکن پکتیکا اور خوست میں اب سینکڑوں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔

کئی زخمیوں کا علاج ابھی تک باقی ہے۔ ہیلو ٹرسٹ نامی فلاحی تنظیم جو بارودی سرنگیں صاف کرنے کا کام کرتی ہے، اب انھوں نے موبائل ہیلتھ کلینک قائم کر لیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں