پاکستان نے بھارت کا مقبوضہ کشمیرمیں جی20 کانفرنس کے انعقاد کا منصوبہ مستردکردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان نے بھارت کے زیر قبضہ ریاست جموں و کشمیر (آئی او جے کے) میں اگلے سال جی 20 کی کانفرنس منعقد کرنے کے مودی حکومت کے مبیّنہ منصوبے کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔

جمعہ کو دی انڈین ایکسپریس میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق بھارت نے اگلے سال متنازع خطے میں جی 20 کے اجلاسوں کی میزبانی کا فیصلہ کیا ہے اور اس تقریب کوحتمی شکل دینے کے لیے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

جمعرات کو ریاست جموں کشمیرکے محکمہ ہاؤسنگ اور شہری ترقی کی جانب سے جاری کردہ سرکاری حکم نامے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ کمیٹی ہندوستانی وزارت خارجہ کی طرف سے چار جون کے مراسلے کے جواب میں تشکیل دی گئی تھی۔

ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ میں الگ سے یہ کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد منعقد ہونے والا یہ پہلا بڑا بین الاقوامی ’’اجلاس‘‘ہو گا۔

اسلام آباد میں دفترخارجہ کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں پاکستان نے ہمسایہ ملک کے منصوبوں کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر دونوں ملکوں کے درمیان بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ’’متنازع‘‘علاقہ ہے۔ یہ علاقہ 1948ء سے بھارت کے جابرانہ اور غیر قانونی قبضے میں ہے اور یہ تنازع کشمیر گذشتہ سات دہائیوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت خطے میں ’’وسیع پیمانے پر مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں‘‘کا مرتکب ہورہا ہے۔ 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اور یک طرفہ اقدام کے بعد سے مقبوضہ ریاست میں بھارتی قابض افواج نے 639 بے گناہ کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کیا ہے۔

بیان میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ اقوام متحدہ کی متعدد رپورٹوں بشمول 2018 اور 2019 میں انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کےدفتر (او ایچ سی ایچ آر) کی جانب سے مرتب کردہ دو رپورٹوں میں کشمیری عوام کے خلاف جاری بھارتی مظالم کی دوبارہ تصدیق کی گئی ہے۔

اس نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جی 20 سے متعلق کسی بھی اجلاس/تقریب کے انعقاد پر غور’’علاقے کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو یکسر نظر انداز کرنے کے مترادف ہے اور اسے عالمی برادری کسی بھی صورت میں قبول نہیں کر سکتی‘‘۔

توقع کی جاتی ہے کہ بھارت کی جانب سے ایسی کسی بھی متنازع تجویز کو، جو سات دہائیوں سے جاری غیر قانونی اور ظالمانہ قبضے کو بین الاقوامی قانونی جواز عطا کرنے کے لیے تیار کی جائے گی، جی 20 کے قانون اور انصاف کی ضروریات سے پوری طرح آگاہ رکن ممالک یکسر مسترد کر دیں گے۔

پاکستان نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سرا سر اور منظم خلاف ورزیوں کو ختم کرانے، بھارت کے غیر قانونی اور یک طرفہ اقدامات کو منسوخ کرنے اور حقیقی کشمیری رہنماؤں سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کرے۔

دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا واحد راستہ یہ ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ان کا ناقابل تنسیخ پیدائشی حق خودارادیت دیا جائے تاکہ وہ یہ فیصلہ کرسکیں کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں