پنجاب میں مون سون میں متوقع سیلاب کےخطرات کے پیش نظر36اضلاع میں ہنگامی مراکز قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے بڑے صوبہ پنجاب میں مون سون کے دوران میں متوقع سیلاب کے خطرات کے پیش نظرصوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے 36اضلاع میں ہنگامی کارروائی مراکز قائم کردیے ہیں۔

ڈائریکٹرجنرل پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اٹھارٹی فیصل فرید نے بتایا ہے کہ یہ ہنگامی مراکز مقامی سطح پر سیلاب کی صورت حال سے متعلق آگاہی کے علاوہ ہنگامی حالات میں فوری امدادی کاروائیوں کو یقینی بنائیں گے۔اتھارٹی کے ہیڈ کوارٹرمیں قائم کردہ کنٹرول روم تمام متعلقہ اداروں کو مون سون سے قبل موسم کی صورت حال، درجہ حرارت میں تبدیلی، بارشوں کی مقدار، دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ اور سیلاب کے امکانات سے آگاہی کی خدمات انجام دے رہا ہے۔

ایک سرکاری ہینڈ آؤٹ کے مطابق ہنگامی آپریشن مراکزاور کنٹرول روم ہفتے کے سات دن اور چوبیس گھنٹے خدمات کی فراہمی کو یقینی بنارہے ہیں۔مون سون کے دوران میں فوری امدادی کاروائیوں کے لیے آزمائشی مشقیں اور امدادی آلات کی جانچ پڑتال کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے۔ فی الوقت پنجاب کے تمام بڑے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق بتایاجا رہا ہے۔

دریں اثناء محکمہ موسمیات کی پیشین گوئی کے مطابق آیندہ چوبیس گھنٹے میں پاکستان کے بیشترعلاقوں میں موسم خوشک رہے گا۔تاہم گوجرانوالہ اور لاہور ڈویژن میں بڑے دریاؤں کے نزدیک بالائی علاقوں میں کہیں کہیں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

مزیدبرآں آیندہ چوبیس گھنٹے میں خلیج بنگال اور بحیرہ عرب سے مون سون ہواؤں کا تازہ سلسلہ ملک میں داخل ہو گا جس کے نتیجہ میں مون سون کی پہلی بارش متوقع ہے۔ اس ضمن میں پی ڈی ایم اے کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ کیا جاچکا ہے۔

پاکستان کے محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ اس کی حال ہی میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت طے پائی ہے جس کے تحت طرفین زرعی شعبہ کی ترقی کے لیے مل کر کام کریں گے۔اس ضمن میں فصلوں پر موسمی تغیّرات کے مضراثرات پرقابو پانے کے لیے محکمہ موسمیات کی فراہم کردہ معلومات سے استفادہ کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں