پیٹرولیم مصنوعات پر 50 روپے فی لیٹر لیوی عائد کرنے کی ترمیم منظور

قومی اسمبلی میں فنانس بل (بجٹ) 23 - 2022 کثرت رائے سے منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

قومی اسمبلی میں پیٹرولیم مصنوعات پر 50 روپے فی لیٹر مرحلہ وار لیوی عائد کرنے کی ترمیم منظور کر لی گئی ہے۔

اس حوالے سے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ اس وقت پٹرولیم مصنوعات پر لیوی صفر ہے، اور پٹرولیم مصنوعات پرلیوی لگانے کا اختیار قومی اسمبلی نے دے رکھا ہے۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر 50 روپے فی لٹر لیوی یکمشت عائد نہیں کی جائے گی، بلکہ اس پر مرحلہ وار عمدرآمد ہوگا۔

وزیرمملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے ٹیکس لائے ہیں جوصاحب ثروت لوگوں پرلگیں، ہم نے یہ اس لیے کیا کہ عام آدمی پربوجھ نہ پڑے۔

وزیرمملکت خزانہ کا کہنا تھا کہ ہم نے جوتبدیلیاں کی ہیں وہ پچھلی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ طے کی تھیں، ہم تو صرف معاہدے کی پاسداری کر رہے ہیں، آئی ایم ایف کے کہنے پر فنانس بل میں تبدیلی نہیں کی گئی۔

عائشہ غوث نے کہا کہ 80 فیصد ترامیم براہ راست ٹیکسوں سے متعلق کی گئی ہیں، ہمارا مقصد امیر پر ٹیکس لگانا اورغریب کو ریلیف دینا ہے۔

قومی اسمبلی نے تاجروں سے بجلی کے بلوں کے ذریعے سیلز ٹیکس وصول کرنے سے متعلق شق کی بھی منظوری دی۔‘

اس کے علاوہ تنخواہ دار طبقے کا ریلیف ختم کرکے تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کی شرح کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔

ماہانہ 50 ہزار روپے تک تنخواہ لینے والوں پر کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا ہے جبکہ ماہانہ 50 ہزار روپے سے ایک لاکھ تک تںخواہ لینے والوں پر 2.5 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کیے جانے کی ترمیم بھی منظور کر لی گئی ہے۔

ماہانہ ایک سے دو لاکھ تنخواہ والوں پر 15 ہزار روپے فکس ٹیکس سالانہ عائد کیا گیا ہے جبکہ اس سے زائد رقم پر اضافی رقم پر12.5 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

ماہانہ دو سے تین لاکھ تنخواہ والوں پر ایک لاکھ 65 ہزار سالانہ جبکہ دو لاکھ سےاضافی رقم پر 20 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی بطھی منظوری دے دی گئی ہے۔

ماہانہ تین سے پانچ لاکھ روپے تںخواہ لینے والوں پر چار لاکھ پانچ ہزار روپے سالانہ جبکہ تین لاکھ روپے سے اضافی رقم پر 25 فیصد ماہانہ ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

ماہانہ پانچ سے 10 لاکھ روپے تنخواہ والوں پر 10 لاکھ روپے سالانہ اور 5 لاکھ روپے سے اضافی رقم پر32.5 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کرنے کے لیے فننانس بجٹ کی شق کی منظوری دے دی گئی ہے۔

ماہانہ 10 لاکھ روپے سے زیادہ تںخواہ لینے والوں پر 29 لاکھ روپے سالانہ جبکہ 10 لاکھ روپے سے اضافی رقم پر 35 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

ایئر لائنز، آٹوموبائل، مشروبات، سیمنٹ، کیمیکل، سگریٹ، فرٹیلائزر، اسٹیل، ایل این جی ٹرمینل، آئل مارکیٹنگ، آئل ریفائننگ، فارماسوٹیکل، شوگر اور ٹیکسٹائل پر 10 فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کی منظوری بھی ایوان سے حاصل کر لی گئی ہے۔

بینکنگ سیکٹر پرمالی سال 2023 میں 10 فیصد سپر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

فنانس بل 23 2022 میں درآمد کیے جانے والے موبائل فونز مزید مہنگے کر دیے گئے ہیں۔

موبائل فونز کی درآمد پر 100 روپے سے 16 ہزار روپے تک لیوی عائد کرنے کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔

بجٹ میں 30 ڈالر کے موبائل فون پر 100 روپے لیوی عائد ہوگی، 200 ڈالر کے درآمدی موبائل فون پر 600 روپے لیوی عائد ہوگی۔

فننانس بجٹ میں 350 ڈالر مالیت کے موبائل فونز پر 18 سو روپے لیوی عائد ہوگئی ہے، 500 ڈالر کے موبائل فون پر چار ہزار لیوی جبکہ بجٹ میں 701 ڈالر مالیت کے موبائل فونز پر 16 ہزار روپے لیوی عائد کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں