اسلام آباد: سی پی آر کی تربیت حاصل کرنے والے طلبہ کو 10 نمبر دینے کی تجویز

سوشل میڈیا پر تجویز کے حق اور مخالفت میں نوجوانوں کا ملا جلا دلچسپ ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

وزیر اعظم شہباز شریف کے سٹریٹجک ریفارمز کے شعبے نے طلبہ وطالبات کے لیے سی پی آر کی تربیت لینے اور معاشرے کے لیے مفید تر بننے کی اچھوتی سکیم شروع کی ہے۔

اس سکیم سے فائدہ اٹھا کر دل کی دھڑکن کی بحالی اور نظام تنفس کو جاری کرنے کی تربیت حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات کو امتحان میں اضافی دس نمبر دینے کی ترغیب دی گئی ہے۔

اس ’’دس نمبر‘‘ کی سکیم میں طلبہ و طالبات کو پرونے کی سوچ پرائم منسٹر سٹریٹجک ریفارمز کے سربراہ سلمان صوفی کی ہے جنہوں نے اس بارے میں اپنے ایک ٹویٹ میں اس کا ابتدائی اطہار کیا تو افراد نے اور بالخصوص طلبہ وطالبات نے فوری ریسپانس کیا۔

اس ریسپانس کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ طلبہ و طالبات جو آجکل ایک ایک نمبر کی وجہ سے غیر معمولی مسابقت کے ماحول سے گذر رہے ہوتے ہیں۔ ان طلبہ وطالبات کے لیے یہ سکیم کافی اہم ہے۔ وہ 'سی پی آر' کی تربیت حاصل کر کے نظام تنفس کی بحالی اور دل کی دھڑکن کے اچانک رک جانے کی حالت میں اسکی مدد کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔

اس جانب عوامی توجہ در حقیقت ملتان کی ایک خاتون ڈاکٹر قرۃ العین ہاشمی اور ان کے شوہر کی وائرل ہونے والی ویڈیو نے مبذول کر شمالی علاقہ جات کی سیر کے دوران نلتر جھیل میں ڈوب جانے والے نو عمر کی جان بچاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

اس ویڈیو کو جس نے دیکھا متاثر ہوا۔ ہو سکتا ہے اس آئیڈے میں اس ویڈیو کا بھی دخل ہو اگر نہیں بھی تو کم از کم یہ ضرور ہوا کہ جب انسانی ہمدردی کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ گرم ہوا تو حکومتی سٹریٹجک ریفارمز کی سکیم بھی انہی دنوں میں سامنے آئی ، حکومت کو عوامی سطح پر لوہا گرم مل گیا۔

سلمان صوفی اپنی وضع کی منفرد شخصیت ہیں۔ وہ اچھوتے آئیڈیاز کی وجہ سے مشہور ہیں۔ موجودہ ذمہ داری ملنے سے قبل جب میاں شہباز شریف وزیر اعلی پنجاب تھے تو اس وقت بھی سلمان صوفی کی خدمات کا کا چرچا رہا۔

پنجاب کی نوجوان بچیوں کو سکوٹیز دینے کا منصوبہ انہی کی ندرت خیال کا نتیجہ تھا۔ اب وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز نے بھی اسے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور بجٹ میں بھی اس کے لیے رقم رکھنے کی اطلاع ہے۔

لیکن یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ اس میں اصل کردار خود میاں شہباز شریف ہیں جو قوم کے لیے بالعموم اور نوجوانوں کے لیے کچھ انوکھا کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ ان کی لیپ ٹاپ سکیم ایک غیر معمولی مثال ہے۔

خواتین کو سکوٹیز دینے کا آئیڈیا بھی انہیں کی وجہ سے آگے بڑھا۔ اب تنفس کے نظام اور دل کی دھڑکن کی بحالی کی اس سعید سکیم کی سرپرستی بھی انہوں نے کی تو یہ شروع ہو سکی۔

لیکن وہ جو کہتے ہیں دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ اس وجہ سے اس نئی سکیم پر آنے سوشل میڈیا پر فیڈ بیک بھی ملا جلا ہے۔ البتہ یہ خوش آئند ہے کہ کسی نے اس کو رد کم ہی کیا۔

اگر کوئی اندیشہ ہے تو اس میں دس نمبری ہونے کا صرف امتحانوں میں دس نمبر لگنے والی ترغیب سے ہے، کہ اس پیش کش کا غلط فائدہ اٹھانے کے طریقے ایجاد نہ ہو جائیں۔ جیسا کہ ماضی میں بھی کچھ سکیمیں رہی ہیں لیکن پھر وہ ختم ہو گئیں۔

یہ بھی خوش آئند ہے کہ کسی نے کم از کم اب تک سیاسی ایجنڈا سیٹنگ اور نوجوانوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش قرار نہیں دیا۔ آئیے اس نئی سکیم کو صارفین سوشل میڈیا کے ریسپانس کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں