افغانستان پر عاید معاشی پابندیاں نرم کی جائیں ، عالمی برادری سے پاکستان کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ طابان کے زیر حکومت افغانستان پر لگائی گئی پابندیوں کو نرم کیا جائے۔ معمول کے امور کی انجام دہی کے لیے افغان معیشت کو خطرے میں نہیں ڈالا جانا چاہیے۔

یہ بات پاکستان کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے مقامی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہی ہے۔ پچھلے سال پندرہ اگست کو جب سے افغانستان میں طالبان کی حکومت بنی ہے بعض اہم ملکوں نے امریکا کے زیر قیادت افغانستان کے ترقی اور سلامتی سے متعلق فنڈزمیں کمی کر دی تھی۔

اس صورت حال میں پاکستان کی نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ '' افغاانستان پر لگائی جانے والی سخت معاشی پابندیوں کی وجہ سے افغان بنکنگ سیکٹر تباہ حالی کا شکار ہے۔'' انہوں نے مزید کہا اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے افغانستان کو معاشی تباہی کے خطرے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ '' حنا ربانی کھر نے کہا '' اگر دوسرے ممالک نے افغان بنکنگ کو اسی طرح تالے لگائے رکھے تواس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔''

انہوں نے کہا '' اس طرح کی پابندیوں کے سنگین مضمرات ہوں گے۔ کیونکہ اس مسئلے کا مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل نکالنے کی کوشش نہیں کی جارہی ہے، اس لیے جرمنی کو چاہیے کہ وہ معاملے کی بہتری کے لیے سیاسی کردار ادا کرے۔''

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا'' موجودہ مالی حالات کو جاری رکھنا افغانستان کو بھوک کا شکار کرنا ہو گا اور اس سے ملک کے لیے مشکلات بڑھیں گی۔ لہذا ضروری ہے کہ افغان عوام کی مدد کی جائے۔ ''

حنا ربانی کھر نے اظہار تاسف کرتے ہوئے کہا یہ رویہ سمجھ سے بالا تر ہے کہ افغانستان میں جنگ پر تو تین ٹریلین ڈالر لگا دیے جاتے ہیں مگر آج افغانستان کے لیے دس ارب ڈالر بھی فراہم نہیں کیا جارہے ہیں۔ یہ ناقابل فہم بات ہے۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں