حکومت کا’حقیقی مہنگائی بم‘؛پِٹرول کی قیمت میں قریباً15 روپے فی لیٹرکا مزیداضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

حکومتِ پاکستان نے جمعرات کی شب پِٹرول کی قیمت میں 14.85 روپے فی لیٹراضافے کا اعلان کیا ہے۔گذشتہ 35 دنوں میں پِٹرول کی قیمت میں یہ چوتھا اضافہ ہے جس سے 26 مئی سے اب تک قیمت میں کیے گئے اضافوں کی مجموعی رقم قریباً 100 روپے ہوگئی ہے۔

خزانہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق تازہ اضافے کے بعد اب پِٹرول کی قیمت 248.74 روپے ہوگی۔ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 276.54 روپے، مٹی کے تیل کی قیمت 230.26 روپے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت 226.15 روپے ہوگی۔نئی قیمتیں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب سے نافذالعمل ہوگئی ہیں۔

نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اتارچڑھاؤ اور شرح تبادلہ میں تغیّر کے پیش نظر حکومت نے پیٹرولیم لیوی کا جزوی اطلاق کرنے اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ اتفاق کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتوں پرنظرثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پِٹرول پر10 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل پر10 روپے پی لیٹر پِٹرولیم لیوی کا اطلاق کیا گیا ہے۔

اسلام آباد کے سیکٹرایف 6 میں واقع ایک پٹرول پمپ کی انتظامیہ نے حکومت کے اعلان سے قبل ہی منافع خوری کے لالچ میں پٹرولیم مصنوعات کی فروخت بند کردی تھی۔
اسلام آباد کے سیکٹرایف 6 میں واقع ایک پٹرول پمپ کی انتظامیہ نے حکومت کے اعلان سے قبل ہی منافع خوری کے لالچ میں پٹرولیم مصنوعات کی فروخت بند کردی تھی۔

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے زیرقیادت اتحادی مخلوط حکومت نے اپریل میں اقتدار میں آنے کے بعد پہلی بار 26 مئی کو پِٹرول کی قیمت میں 30 روپے کا اضافہ کیا تھا۔اس کے بعد 2 جون کو ایک اور 30 روپے کا اضافہ ہوا تھا اورپندرہ دن کے بعد 15 جون کو اس نے ایندھن کی قیمت میں مزید 24 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق حکومت اسٹرکچرل بینچ مارکس کے تحت یکم جولائی (جمعہ) سے پِٹرولیم کی تمام مصنوعات پر 10 روپے فی لیٹر کی شرح سے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) عاید کرنا شروع کر دے گی، سوائے ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کے اس پرلیوی کی شرح 5روپے فی لیٹرہوگی۔اس کے بعد لیوی 5روپے ماہانہ کی شرح سے زیادہ سے زیادہ 50 روپے تک بڑھائی جائے گی۔

پاکستان کو گذشتہ منگل کے روز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے اپنے 6 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے مشترکہ ساتویں اور آٹھویں جائزے کے لیے اقتصادی اور مالی پالیسیوں (ایم ای ایف پی) کی یادداشت موصول ہوئی تھی جو اپریل سے تعطل کا شکار ہے۔

ایم ای ایف پی میں کچھ پیشگی اقدامات شامل ہیں جن پر آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری اور اس کے بعد فنڈز کی تقسیم کے لیے پاکستان کا معاملہ اٹھانے سے پہلے عمل درآمد ضروری ہوگا۔

ایم ای ایف پی کے مطابق پاکستان کو جولائی کے آخر یا اگست کے اوائل تک دونوں مشترکہ قسطوں کو محفوظ بنانے کے لیے کم از کم دو مزید "پیشگی اقدامات" کرنا ہوں گے۔ ان میں آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ اتفاق رائے کے مطابق وفاقی بجٹ کی منظوری ہے۔اس کے علاوہ صوبائی حکومتوں کو مرکز کو قریباً 750 ارب روپے کی فاضل رقم مہیا کرنا ہوگی۔اس ضمن میں باضابطہ طور پر چارووں صوبوں نے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دست خط کیے ہیں۔

حکام کے مطابق ان شرائط کے پورا ہونے کے بعد اس بات کا قوی امکان ہے کہ اگست کے پہلے ہفتے یاجولائی کے آخری ہفتے میں قریباً91 کروڑ 80 لاکھ ڈالر (یا 68 کروڑ 70لاکھ ڈالر کے خصوصی ڈرائنگ رائٹس یا ایس ڈی آرز) کی دو قسطیں ایک ہی وقت میں پاکستان کو آئی ایم ایف کی طرف سے دستیاب ہوں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں