.

پاکستان میں بارشوں نے تباہی مچادی؛ بلوچستان میں ریسکیوسرگرمیاں،امدادی کام جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان بھرمیں مون سون کی بارشوں نے تباہی مچا دی ہے اور سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں اور تباہ کاریوں کی مسلسل اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔پاک فوج اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کے جوان صوبہ سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں متاثرہ علاقوں امدادی سرگرمیوں میں سول انتظامیہ کا ہاتھ بٹا رہے ہیں اور سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکال کر محفوظ مقامات کی طرف منتقل کررہے ہیں۔

بارشوں اور سیلاب سے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق یکم جون سے اب تک بلوچستان میں 111 افراد بارشوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

اتھارٹی نے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ 6 ہزار سے زیادہ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ان میں سے تین ہزار مکمل طورپرتباہ ہو گئے۔بلوچستان کے چیف سیکرٹری عبدالعزیزعقیلی نے ایک نیوزکانفرنس میں کہا کہ رواں سال مون سون کی بارشوں نے گذشتہ 30 سالہ اوسط بارش کا ریکارڈ توڑدیا ہے جس سے صوبہ ’’سنگین‘‘ صورت حال سے دوچارہوگیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ 50 ہزار کے قریب متاثر ہوئے ہیں۔قریباً دولاکھ ایکڑ اراضی بھی متاثر ہوئی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ تمام متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔پاک فوج نے اپنے دو ہیلی کاپٹرکراچی سے بلوچستان کے علاقوں اُتھل اور لسبیلہ کے علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں شریک ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)نے بتایا کہ ہیلی کاپٹروں نے گذشتہ 48 گھنٹے کے دوران میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے لیکن آج ’’خراب موسمی حالات‘‘ کی وجہ سے پرواز نہیں کر سکے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر اب پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں گے اور ضروری امدادی اشیاء کی نقل و حمل بھی کریں گے۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ تباہ شدہ مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کی مرمت اور افادیت کی بحالی کے لیے کوششیں جاری ہیں، تربت میں تحفظ بند کی خلاف ورزی کے بعد مرمت کی گئی ہے۔

بدھ کے روز ضلع لسبیلہ میں سیلاب کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہو گئے تھےاور ایک وسیع علاقہ زیر آب آ گیا تھا۔ جھل مگسی، اورکی اور گنداوامیں متعدد علاقے زیرآب آگئے تھے جس سے سیکڑوں افراد بے گھر ہوگئے تھے۔

ادھرملک کے سب سے بڑے شہرکراچی میں سڑکوں اور آبادیوں سے بارشی پانی ختم کرنے کی کوششوں جاری ہیں اور فوجی دستے جامشورو اور گھارو میں سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

دریں اثنا وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبہ کے بارش سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ علاقے قرار دے دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ مون سون کے تینوں مراحل میں 93 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور 2807 مکانات اور 388 کلومیٹر سڑکوں کو مکمل نقصان پہنچاہے۔

وزیراعلیٰ دفتر کی جانب سے جاری کردہ ہینڈ آؤٹ کے مطابق مون سون کے موسم میں سندھ میں عام طور پرریکارڈ کی گئی بارش سے 369 فی صد زیادہ بارش ہوئی ہے۔کراچی، حیدرآباد، بدین، سکھر، ٹھٹہ، سجاول اور دادو جیسے شہری مراکز کی مختلف گلیوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

وزیراعلیٰ نے وزیراعظم شہبازشریف کے زیرصدارت ایک اجلاس کو بتایا کہ قریباً 15,547 مکانات کو بھی جزوی نقصان پہنچا ہے جبکہ 89,213 ایکڑ کھڑی فصلیں زیرآب آگئی ہیں یا بہ گئی ہیں۔

رواں ماہ کے اوائل میں موسمیاتی تبدیلی کی وزیر شیری رحمان نے کہا تھا کہ سندھ اور بلوچستان میں بارش کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔

وزیراعظم شہبازشریف نے بھی اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی ہمارے وقت کی ایک ’’ناقابل تردیدحقیقت‘‘ ہے اور اس سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے سنگین نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے ہاں جاری سیلاب اور طوفانی بارشوں کو اسی زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔انھوں نے وعدہ کیا کہ حکومت اپنے ترقیاتی اہداف کو موسمیاتی تبدیلیوں کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر رہی ہے۔وزیراعظم نے ملک کے مختلف حصوں میں مون سون بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصان کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی۔

ریڈیوپاکستان کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے وفاقی وزرا کو ہدایت کی کہ وہ آیندہ چار روز میں متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں اور 4 اگست تک مختصر، درمیانے اور طویل مدتی منصوبوں کے لیے سفارشات پیش کریں۔

وزیراعظم نے سیلاب میں زخم ہونے والے افرادکے لیے مالی معاوضہ 50,000 روپے سے بڑھا کر200,000 روپے کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ جزوی طور پر تباہ شدہ مکانات کا معاوضہ 25 ہزار روپے سے بڑھا کر 2 لاکھ 50 ہزار روپے اور مکمل طور پر تباہ شدہ مکانات کے معاوضے کو 50 ہزار روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت قدرتی آفت کے اثرات سے نمٹنے کی کوشش میں صوبائی حکومتوں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ وفاقی حکومت ’’کراچی میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے دستیاب فنڈ مہیاکرنے کے لیے سپریم کورٹ کو خط لکھے گی‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں