.

کامن ویلتھ گیمز: پاکستان پہلے روز چار کھیلوں میں قسمت آزمائے گا

پاکستانی کھلاڑی جمعے کو مکس بیڈمنٹن، کرکٹ، باکسنگ اور سکواش کے میدان میں کھیل کا مظاہرہ کرتے نظر آئیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے شہر برمنگھم میں جاری کامن ویلتھ گیمز میں آج (جمعے کو) پاکستان چار مختلف کھیلوں میں اپنی قسمت آزما رہا ہے۔

پاکستان کا ان گیمز میں افتتاحی میچ روایتی حریف بھارت کے خلاف ہے، جہاں مکس بیڈمنٹن کے مقابلوں میں دونوں ملکوں کے کھلاڑی ایک دوسرے کے مدمقابل آئیں گے۔

گروپ پلے سٹیج کے اس میچ میں گروپ اے سے پاکستان اور بھارت کا مقابلہ آج پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق شام چھ بجے ہو گا۔

کامن ویلتھ گیمز کے ویمنز کرکٹ ایونٹ کے دوسرے میچ میں جمعے کو بارباڈوس اور پاکستان کا ٹکراؤ ہوگا۔

برمنگھم کے ایجبسٹن سٹیڈیم میں کھیلے جانے والا یہ میچ پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق رات 10 بجے شروع ہو گا۔

گروپ اے ہی سے تعلق رکھنے والی بھارتی خواتین کی کرکٹ ٹیم اور آسٹریلوی ٹیم پہلے میچ میں مدمقابل ہوں گی۔

جمعے کو پاکستان کا تیسرا مقابلہ بھی بھارت کے خلاف ہے جن کے کھلاڑی مردوں کے باکسنگ مقابلوں میں ایک دوسرے کو زیر کرنے کی کوشش کریں گے۔

60 سے ساڑھے 63 کلو گرام کیٹیگری کا یہ میچ برمنگھم کے این ای سی کے ہال نمبر چار میں پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق شام ساڑھے چار بجے شروع ہو گا۔

آج کے چوتھے اور آخری مقابلے میں پاکستان کا سامنا سکواش کے کورٹ میں جمیکا کے کھلاڑی سے ہو گا۔

مینز سنگلز کا یہ میچ برمنگھم یونیورسٹی کے سپورٹس سینٹر میں پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق رات 10 بجے شروع ہو گا۔

کامن ویلتھ گیمز کی افتتاحی تقریب کے دوران ٹیم پاکستان کی پریڈ
کامن ویلتھ گیمز کی افتتاحی تقریب کے دوران ٹیم پاکستان کی پریڈ

کامن ویلتھ گیمز کے 22ویں مقابلوں کا آغاز جمعرات (28 جولائی) کو برمنگھم میں افتتاحی تقریب سے ہوا تھا۔

ہر چار سال بعد ہونے والے ان گیمز میں پاکستان مختلف کھیلوں میں حصہ لے رہا ہے، جن میں ویمن کرکٹ ٹیم بھی شامل ہے۔

پاکستان کی طرف سے کھیلوں کے آغاز پر کرکٹ ٹیم کی کپتان بسمہ معروف اور ریسلر انعام بٹ پرچم اٹھائے افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے۔

دولت مشترکہ کے رکن ممالک میں سے 54 ممالک ان کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں۔

پاکستان دولت مشترکہ کا رکن 1947 میں بنا اور 1954 میں پہلی مرتبہ کامن ویلتھ گیمز کا حصہ بننے کے بعد 1970 تک ان مقابلوں کا حصہ رہا مگر پھر اس نے تقریباً 20 سال تک ان کھیلوں میں شرکت نہیں کی، جس کی وجہ پاکستان کا دولت مشترکہ سے الگ ہونا تھا۔

پاکستان کے لیے سب سے کامیاب کامن ویلتھ گیمز 1962 کے تھے جہاں اس نے کل آٹھ گولڈ میڈلز جیتے تھے۔

اب تک پاکستان کامن ویلتھ مقابلوں میں کل 75 میڈل جیت چکا ہے، جن میں 25 سونے، 24 چاندی اور 26 کانسی کے تمغے شامل ہیں، جبکہ پاکستان کو ان مقابلوں میں سب سے زیادہ کامیابیاں ریسلنگ میں ملی ہیں۔

رواں سال ہونے والے مقابلوں میں بھی پاکستان کی طرف سے ریسلنگ ہی سے سب سے زیادہ امیدیں وابستہ ہیں جبکہ جیویلن تھرو بھی ایسا کھیل ہے جس میں پاکستانیوں کو اس بار کافی امیدیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں