.

عمران خان کی پی ٹی آئی کا فارن فنڈنگ کیس؛کب، کیاہوا؟کتنی رقم کہاں سے آئی؟(1)

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایڈیٹرکا نوٹ:

سوشل میڈیا پرنت روز نئے انکشافات ہوتے اورتحریری ، تقریری ، صوتی اورتصویری مواد کی شکل میں دنیا کی سیاست ومعاشرت کے خفیہ گوشے منظرعام پرآتے ہیں۔سوشل میڈیا میں بھی ٹویٹراس وقت ابلاغ اور خبررسانی کا تیزترین ذریعہ بن چکا ہے۔امریکی صدر سے لے کر تیسری دنیا کے قائدین تک ٹویٹرپر ہی اپنے خیالات کا اظہار کرتے اور دنیا کو اپنی مصروفیات اورفیصلوں سے آگاہ کرتے ہیں۔یہ طاقتورمیڈیاآج رائے عامہ کو ہموار کرنے ،حکومتوں کو بنانے اورگرانے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔

سوشل میڈیا پر بڑے میڈیا اداروں اور نامی صحافیوں کے اکاؤنٹس تو ہیں ہی،ان کے ساتھ ساتھ اہل علم وفن، معروف اورغیرمعروف سماجی وسیاسی شخصیات اور کارکنان بھی اپنے خیالات کااظہار کرتے ہیں۔ان کے پاس اگرکوئی خبر ہے تو وہ اسے مختصر یا تفصیل سے شیئر کرتے ہیں۔ان ہی میں سے ایک صاحب نے ٹویٹرپرپاکستان کی سابق حکمران جماعت تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مشہورزمانہ غیرملکی فنڈنگ کیس سے متعلق ہوشربا تفصیل لکھی ہے۔انھوں نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا لیکن ان کا اکاؤنٹ اس نام سے ہے: @OmniscientXoاپنی مختصرشناخت وہ یوں کراتے ہیں۔I'm back with an updated software.ساتھ تصویر کسی انگریز کی لگائی ہے اور اپنی اصل شناخت چھپائی ہے۔بہرکیف انھوں نے جو کچھ لکھا ہے،اس کا ترجمہ العربیہ اردوڈاٹ نیٹ پرکم وبیش من ومن نذرقارئین۔ملاحظہ کیجیے:

کیا آپ جانتے ہیںکہ فارن فنڈنگ کیس پہلی بار نومبر 2014ءمیں جناب اکبر ایس بابر نے دائر کیا تھا؟کیا آپ جانتے ہیں کہ فارن فنڈنگ کیس قریباً مرچکا تھا لیکن عمران خان کے ایک جھوٹ نے اسے دوبارہ زندہ کردیا؟کیا آپ جانتے ہیں کہ عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی)،الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے جھوٹ بولا تھا کہ جناب اکبرایس بابر کو ستمبر 2011 میں پی ٹی آئی سے نکال دیا گیا تھا؟ اگر2011ء میں نکال دیا گیا تھا تو پھرعمران خان نے جناب اکبر ایس بابر کے کہنے پر2013ء میں خصوصی آڈٹ کا اختیار کیسے دیا؟
کیا آپ اے اینڈ اے سی اے فرم کے جلال احسن اوراکبرایس بابر کے ساتھ عمران خان کے برادرنسبتی عبدالاحد کے خصوصی آڈٹ کے ضوابط کار کا مسودہ جانتے ہیں؟ دستاویز پر چوتھا نام کس کا تھا، کوئی اندازہ؟ ہاں! دستاویز پر خود بادشاہ نے دست خط کیے تھے۔


کیا آپ جانتے ہیں کہ پی ٹی آئی ملازمین کے نجی بینک اکاؤنٹس غیر قانونی ذرائع سے ملنے والے عطیات جمع کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے تھے جیسے کہ ہنڈی۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور آڈیٹرز کی ملاقاتوں کے منٹس کو کمیشن کے سامنے پیش کیا گیا تھا؟ آڈیٹر نے اس ریکارڈ پراتفاق کیا کہ پی ٹی آئی کے سیکرٹری خزانہ سرداراظہر طارق نے انھیں (آڈیٹر کو) پی ٹی آئی کے ساتھ مستقبل کے کاروبار کی پیش کش کی تھی جسے رشوت کی ممکنہ پیش کش قرار دیا گیا تھا۔

امریکا اور الیکشن کمیشن مخالف موقف

کیا آپ جانتے ہیں کہ پی ٹی آئی نے کئی غلطیاں کیں جس نے اس معاملے کو زندہ رکھا؟
1) عمران خان نے آئی ایچ سی، ای سی پی اور ایس سی پی کے سامنے اکبر ایس بابر کو نکالنے کے بارے میں جھوٹ بولا۔
2) عمران خان نے امریکی محکمہ انصاف کے سامنے 5 غیرملکی ایجنٹوں کو تبدیل کرنے کے بارے میں جھوٹ بولا۔
3) پی ٹی آئی نے امریکی محکمہ انصاف اور پاکستان کے انتخابی مشن میں مختلف دستاویزات جمع کرادیں۔
4) پی ٹی آئی امریکی شاخ نے خود کو ایک غیر ملکی سیاسی جماعت (پی ٹی آئی پاکستان کا ذیلی ادارہ) ظاہر کیا۔
5) 26 اکتوبر 2012 کو امریکی محکمہ انصاف نے ٹورنٹو کےہوائی اڈے پر 2 گھنٹے تک عمران خان کو روکے رکھا تھا۔

کارروائی کو پٹڑی سے اتارنے کی کوششیں

1) پی ٹی آئی نے 25 جنوری 2020 کو فارن فنڈنگ کیس میں ای سی پی کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔
2) عارف علوی نے سکندرسلطان راجا کو نیا چیف الیکشن کمشنر پاکستان مقرر کیا، 27 جنوری 2020 کو درانی اور جاتی کے نئے ارکان کا بھی تقرر کیا۔
3) پی ٹی آئی نے اکبر ایس بابر کو کارروائی سے خارج کرنے کی درخواست جمع کرائی۔
4) پی ٹی آئی نے اکبر ایس بابر کو کارروائی سے خارج کرنے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی۔

5) پی ٹی آئی نے آئی ایچ سی میں ای سی پی آرڈر اور پھر سپریم کورٹ میں آئی ایچ سی کے حکم کو چیلنج کیا۔
6) الیکشن کمشنر کو متعدد دھمکیاں موصول ہوئیں، ان کے اہل خانہ کو بھی دھمکیاں دی گئیں۔
7) پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم نے سی ای سی کے اہل خانہ کے خلاف ایک مذموم مہم چلائی۔
8) عمران خان نے سی ای سی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔
9) پی ٹی آئی نے 26 اپریل 2022 کو پاکستان بھر میں ای سی پی دفاتر کے باہر احتجاج کیا۔

دوعملی

1) 21 جنوری 2021 کو عمران خان نے فارن فنڈنگ کیس کی کھلی سماعت کا مطالبہ کیا۔
2) 18 جنوری 2022 کو عمران خان نے درخواست دائر کی اور فارن فنڈنگ کیس میں رازداری کی درخواست کی۔
3) 21 نومبر 2019 کو عمران خان کا کہنا تھاکہ فکر کرنے کی کوئی بات نہیں۔
4) 15 جون 2022 کو پی ٹی آئی نے کیس کے فیصلے میں تاخیر کی درخواست دائر کی۔
5) 18 جولائی 2019 کو عمران خان نے فارن فنڈنگ کیس میں جھوٹے الزامات کے لیے بابر کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا۔
6) 14 جنوری 2021 کو عمران خان نے غیرقانونی فنڈنگ کے لیے امریکا میں اپنے ایجنٹوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔
7) پی ٹی آئی نے امریکا میں 13000 سے زیادہ عطیہ دہندگان کی فہرست میں حلف نامے جمع کرائے۔
8) پی ٹی آئی نے پاکستان میں صرف 1414 عطیہ دہندگان کی فہرست جمع کرائی۔
عمران خان نے یہ ٹویٹ پانچ جنوری 2022ء کو کیا تھا اور ایک ہفتے کے بعد غیر ملکی فنڈنگ کیس کی رپورٹ کو خفیہ رکھنے کی درخواست دائر کی تھی۔ یہاں تک کہ پی ٹی آئی نے چند روز قبل غی ملکی فنڈنگ کیس کا نام تبدیل کرنے کی درخواست بھی دائر کی تھی کیونکہ یہ ان کے امریکا مخالف بیانیے کے خلاف ہے۔ اب اس کیس کو "ممنوعہ فنڈنگ کیس" کہا جاتا ہے۔

روپ ، بہروپ

لکھاری نے کہا ہے کہ اس تھریڈ میں ہر لفظ کی تصدیق قومی/بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے ذریعے کی جا سکتی ہے، اوپر بیان کردہ تاریخوں کے ساتھ تلاش کریں۔وہ کہتے ہیں:’’میں آپ کو مزید درجنوں مثالیں دے سکتا ہوں، اگر میں تفصیل سے لکھوں تو ایک ہفتہ تک لگ سکتا ہے‘‘۔

اب حقائق پر بات کرتے ہیں اور ای سی پی کو فیصلے تک پہنچنے میں اتنا وقت کیوں لگا؟

غیر ملکی (ممنوعہ) فنڈنگ کیس پارٹی فنڈنگ کا معاملہ اتناسادہ نہیں ہے بلکہ پارٹی حامیوں کی طرف سے دیے گئے فنڈز میں غبن اورمنی لانڈرنگ کا کیس ہے۔ پاکستان کے انتخابی قوانین کے مطابق غیر ملکی حکومتوں،بہ شمول پبلک پرائیویٹ کمپنی، غیر ملکی شہریوں کی طرف سے عطیات وصول کرنا ممنوع ہے۔

ممنوعہ فنڈنگ، بدعنوانی، غبن اورمنی لانڈرنگ کے شواہد کی بنیاد پر 14 نومبر 2014 کو ای سی پی کے سامنے درخواست دائر کی گئی تھی۔ کچھ دن بعد انھیں ’’اعلیٰ" رہنما کا فون آیا اور انھیں سینیٹ کے دفتر کی پیش کش کی گئی جس سے انھوں نے انکار کر دیا، 2 دن بعد انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔

2014ء سے 2018ء تک پی ٹی آئی نے کئی تاخیری حربے استعمال کیے۔ پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پانچ رٹ درخواستیں دائر کیں؛ان میں ای سی پی کے دائرہ اختیار اور اکبرایس بابر کی پی ٹی آئی رکنیت کو ان کیمرہ سیشن چیلنج کیا گیا تھا۔انھوں نے ایک درخواست 26 نومبر 2015 کو دائر کی اور اس میں کہا گیا کہ وہ پاکستان کے عام شہریوں کو جوابدہ نہیں ہیں۔

یہاں 2014-2018 کے درمیانی عرصے کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے۔عمران خان نے ای سی پی کے تحریری احکامات کے ساتھ ردی کے ایک ٹکڑا ایسا سلوک کیا۔دراصل ردی کے24 ٹکڑوں ایسا سلوک کیا کیونکہ ای سی پی نے پی ٹی آئی سے 24 الزامات کے خلاف دستاویزات پیش کرنے کا مطالبہ کیا مگر وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ اس معاملے کو انتخابات 2018ء تک تاخیر کا شکار کیا جائے۔

اس کے بعد ای سی پی نے مارچ 2018 میں اسکروٹنی کمیٹی تشکیل دی، ڈی جی آڈٹ ڈیفنس سروسزاورکنٹرولر اکاؤنٹس پاکستان ایئرفورس کو پی ٹی آئی اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کے لیے بلایا گیا۔ تقریبا تین درجن اجلاس طلب کیے گئے لیکن پی ٹی آئی نے براہ راست کوئی دستاویز پیش کرنے سے انکار کردیا۔

ای سی پی نے 3 جولائی 2018 کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے پی ٹی آئی کا مالی ریکارڈ فراہم کرنے کی باضابطہ درخواست کی۔ اسٹیٹ بینک نے ای سی پی کے مطالبے کی تعمیل کی اور پی ٹی آئی کے مالیاتی ریکارڈ کی مکمل تفصیل حوالے کردی۔

اسٹیٹ بینک کے ریکارڈ میں پی ٹی آئی کے 23 بینک اکاؤنٹس کا انکشاف ہوا ہے جبکہ انھوں نے صرف ای سی پی کے سامنے 8 کا اعلان کیا تھا۔

غیرملکی کرنسیوں میں اربوں روپے مالیت کے غیر قانونی لین دین پائے گئے۔ ڈالر کے لین دین 14 مختلف ممالک سے کیے گئے۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے 2008-2012 کے درمیان صرف 2 اکاؤنٹس کا اعلان کیا تھا اور 2013 میں 4 اکاؤنٹس کا انکشاف کیا تھا۔اسٹیٹ بینک نے سال 2008-2013 کے پی ٹی آئی مالیاتی ریکارڈ تیار کیے۔بینک دولت پاکستان کے مطابق پی ٹی آئی نے ان کھاتوں کو خفیہ رکھا تھا:
2008 میں 05 اکاؤنٹس
2009 میں 07 اکاؤنٹس
2010 میں 13 اکاؤنٹس
2011-2013 میں 14 اکاؤنٹس
نوٹ:عمران خان نے 24 تحریری احکامات اوراسکروٹنی کمیٹی کے قریباً 30اجلاسوں کے سمن کے باوجود یہ تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

مذکورہ بالا اکاؤنٹس فعال تھے لیکن اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق مزید اکاؤنٹس تھے جو پہلے ہی بند تھے یا کالعدم اے ایس بی بینک میں تھے۔رپورٹ کے مطابق کے اے ایس بی بینک لمیٹڈ، گلبرگ برانچ، لاہور میں بینک اکاؤنٹ میں 598.89 ملین(قریباً 60 کروڑ) روپے کی رقم منتقل کی گئی۔

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق 6 غیرملکی اکاؤنٹس کی تفصیل یہ ہے:
1) کیمین آئی لینڈز (ووٹن کرکٹ لمیٹڈ) میں رجسٹرڈ آف شورکمپنی سے 2,121,500 امریکی ڈالر یا دوملین امریکی ڈالر سے زیادہ
2) متحدہ عرب امارات سے برسٹل انجینئرنگ سروسز سے 49,965 امریکی ڈالر.
3) ایک ہندوستانی نژاد امریکی نے پی ٹی آئی کو 27,500 ڈالر کا چندہ دیا۔
4) اسی جوڑے نے پی ٹی آئی اکاؤنٹس میں 25 ہزار ڈالر کا ایک اور لین دین کیا
5) تیسری بار انھوں نے مزید 2500 ڈالر دیے۔
6) چوتھی بار اسی اکاؤنٹ کا استعمال کرتے ہوئے انھوں نے 2300 ڈالر کا تعاون کیا۔

غیر ملکی/ ممنوعہ فنڈنگ کے علاوہ پی ٹی آئی نے ابھی تک آفات کے فنڈز کی تفصیل 103,121,000 پاکستانی روپے کی رقم کے طور پر شیئر نہیں کی ہیں جو نامعلوم اکاؤنٹس میں سے ایک میں منتقل کی گئیں۔

پی ٹی آئی کو پارٹی کے یو ایس اے ایل ایل سی-5975 اور ایل ایل سی 6160 اکاؤنٹس سے چارمختلف ٹرانزیکشنز میں 4لاکھ 36ہزار 49ڈالر بھی ملے لیکن ان فنڈز کے ذرائع کے بارے میں بھی کوئی تفصیل نہیں۔عمران خان نے اب غیر قانونی فنڈنگ کا ذمہ دار پی ٹی آئی امریکا کو قرار دیا ہے۔

پی ٹی آئی کو 2009-2013 کے درمیان 14 مختلف ممالک ملنے والے اور الیکشن کمیشن سے چھپائے گئے فنڈز کی تفصیلات یہ ہیں:

1) 6160 پی ٹی آئی-یو ایس اے ایل ایل سی 16599 ویلانو کلب ڈاکٹر چینو ہلز سی اے 91709-6633 سے 618,940 ڈالر
2) 19880 امریکی ڈالر کی رقم 5975-پی ٹی آئی ایل ایل سی 315 میپل اسٹریٹ رچرڈسن ٹی ایکس سے منتقل ہوئی تھی۔
3) 5975-پی ٹی آئی ایل ایل سی 315 میپل اسٹریٹ رچرڈسن ٹی ایکس سے 1,914,955 ڈالر
4) پی ٹی آئی کے پی کے کو 3.36 (ملین؟)ڈالر پی ٹی آئی امریکی شاخ سے منتقل ہوئی تھی۔
5) 2,200,000 ڈالر عطیات میں وصول کیا. (غیر مصدقہ اندراج)

پی ٹی آئی کو اس کےعلاوہ جو دیگر عطیات یا رقوم موصول ہوئیں:

1) 21,803 امریکی ڈالر
2) برطانوی پاونڈ 19,185

یہاں تمام کمپنیوں کو غیرقانونی غیرملکی فنڈنگ کے لیے استعمال کرنے کی تفصیل دی جاری ہے۔امریکا میں دو کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں جن پر "عمران احمد نیازی" کے دست خط ہیں۔

1) پی ٹی آئی یو ایس اے ایل ایل سی نمبر 5975 – $ 1,998,700
2)پی ٹی آئی یو ایس اے ایل ایل سی نمبر 6160 – 669,000 ڈالر
(جاری ہے)

مقبول خبریں اہم خبریں