.

الیکشن کمیشن منگل کی صبح پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنائے گا

عمران خان کا جمعرات کواسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہراحتجاج کا اعلان،سی ای سی سے استعفے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے منگل (2 اگست) کی صبح 10 بجے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کافیصلہ سنانے کا اعلان کیا ہے۔اس کو پہلے پی ٹی آئی غیرملکی فنڈنگ کیس کا نام دیا گیا تھا۔

پارٹی کے بانی رکن اکبرایس بابر کی جانب سے دائرکردہ یہ مقدمہ 14 نومبر2014 سے زیرالتوا ہے۔ بابر اب پی ٹی آئی سے وابستہ نہیں ہیں۔انھوں نے پاکستان اور بیرون ملک سے پارٹی کی فنڈنگ میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کا الزام لگایا تھا۔

پی ٹی آئی نے کسی بھی غلط کام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ فنڈنگ ممنوعہ ذرائع سے نہیں ہوئی تھی۔ گذشتہ ماہ ای سی پی نے طویل سماعت کے بعد اس کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

ای سی پی کی ویب سائٹ کے مطابق چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) سکندر سلطان راجاکی سربراہی میں نثاراحمد درانی اور شاہ محمد جتوئی پر مشتمل تین رکنی بینچ کل سماعت کرے گی اور فیصلے کا اعلان کرے گی۔

ای سی پی نے مارچ2018 میں پی ٹی آئی کی غیرملکی فنڈنگ کا جائزہ لینے کے لیے ایک اسکروٹنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس نے چارجنوری کو بالآخر95 سماعتوں اورقریباً چارسال کے بعد اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔قواعدکار کے مطابق اس کمیٹی نے ایک ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرنا تھی۔

اس کی رپورٹ کے مطابق پارٹی نے مالی سال 2009-10 سے مالی سال 2012-13 کے درمیان چارسال میں 31 کروڑ بیس لاکھ روپے کی رقم کم بتائی تھی۔ سال وار تفصیل سے پتاچلتا ہے کہ صرف مالی سال 2012-13 کے حسابات میں 14 کروڑ50 لاکھ روپے کی رقم کم بتائی گئی تھی۔

حکمران اتحاد کاای سی پی سے مطالبہ

یہ پیش رفت پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)،پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اراکین پرمشتمل حکمران اتحاد کے وفد کی الیکشن کمیشن کے حکام سے ملاقات کے چند روزکے بعد سامنے آئی ہے۔انھوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس کیس کا فیصلہ جاری کریں۔

کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نوازکے رہنما شاہدخاقان عباسی نے کہا تھا کہ ’’ جب بھی کوئی مسئلہ ہوتا ہے توانصاف فوری کارروائی کا متقاضی کا ہوتا ہے، قانون اور مناسب عمل کے مطابق یہ ہونا چاہیے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ’’ملک کے انتخابی قانون میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی غیرملکی سے مالی اعانت لینے والی کوئی بھی جماعت یہ اعلان کرنے کی پابند ہے کہ اسے رقم کس نے دی، کب اور کتنی دی۔نیز کسی جماعت کو کسی غیرملکی کمپنی سے فنڈنگ لینے کا اختیار نہیں ہے‘‘۔

سابق وزیراعظم نے یہ بھی کہا تھاکہ’’آٹھ سال قبل جب یہ معاملہ پہلی بارمنظرعام پر آیا تھا تواکبر ایس بابرنے اس کیس میں ’’واضح ثبوت‘‘پیش کیے تھے‘‘۔

انھوں نے الزام لگایا تھا کہ اس کے بعد سے پی ٹی آئی نے اس معاملے میں ہر طرح سے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی اور وہ اپنے دورحکومت میں الیکشن کمیشن پر’’سرکاری دباؤ‘‘ڈالتی رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم عمران خان کی معزولی کے بعد’’سیاسی دباؤ‘‘بھی ڈال رہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی الیکشن کمیشن پر گذشتہ ہفتے زور دیا تھا کہ وہ طویل عرصے سے التوا کا شکار کیس پر اپنے فیصلے کا اعلان کرے۔

انھوں نے کہا کہ غیرملکی فنڈنگ کیس اس بات کی ایک مثال ہے کہ ’’لاڈلے‘‘ (عمران خان) کوکس طرح تحفظ فراہم کیا جا رہا ہےجبکہ این ایس (نواز شریف) کوبیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر سزا سنائی گئی تھی۔’لاڈلے‘کو استثنا حاصل ہے۔ 8 سال کے بعد بھی فیصلہ زیرالتوا ہے۔ وزیر اعظم نے ٹویٹ کیا تھا کہ ’عمران نیازی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں 9 رٹ پٹیشن دائرکیں اور غیرملکی فنڈنگ کیس میں 50 بار التواء حاصل کیا۔

دریں اثنا پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان چیف الیکشن کمشنر سکندرسلطان راجا کے استعفے کے مطالبے پر مسلسل زور دے رہے ہیں اور ان پر مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ملی بھگت کا الزام عاید کیا ہے۔

انھوں نے الزام لگایا ہے کہ سی ای سی ایک ’’نااہل‘‘اور’’بددیانت‘‘ شخص تھا۔ہمیں ان پربھروسا نہیں ہے اورانھیں ہم پر مسلط کیا گیا ہے۔ گذشتہ ہفتے پی ٹی آئی نے بھی چیف الیکشن کمشنر کے خلاف عدالتی کمیشن میں ریفرنس پیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ملک کی سابق حکمراں جماعت کی حمایت نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیوں سے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف قراردادیں بھی منظورکرائی ہیں۔ان دونوں اسمبلیوں میں پی ٹی آئی کی اکثریت ہے۔

عمران خان نے سوموار کو پارٹی کے اجلاس میں جمعرات (4 اگست) کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن پاکستان کے دفتر کے باہراحتجاج کا اعلان کیا ہے اور اپنے حامیوں پر زور دیا ہے کہ وہ سی ای سی کے استعفے کا مطالبہ کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں