.

بلوچستان کے امدادی کیمپوں میں کھانے کی فراہمی نہ ہونا افسوسناک ہے: وزیر اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیر اعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کا جائزہ لینے کے لیے مختلف اضلاع کا دورہ کیا جہاں حالیہ دنوں میں موسلادھار بارشوں کے بعد سیلاب سے شدید تباہی ہوئی ہے جبکہ جاں بحق افراد کی تعداد 130سے تجاوز کرگئی ہے۔

سیلاب زدہ علاقوں اور امدادی کیمپوں کے دورے کے بعد قلعہ سیف اللہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ دورے کے دوران یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ کیمپوں میں موجود لوگوں کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ کیمپوں میں موجود سیلاب زدگان لوگوں نے کھانے اور پینے کے پانی کی قلت اور عدم دستیابی کی بھی شکایت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں نے سہولیات کی کمی کی شکایت کی ہے اور میں نے ہدایت کی ہے کہ متاثرین کی شکایات کو جلد از جلد دور کیا جائے اور ان کو مطلوبہ سہولیات فراہم کی جائیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے فی الفور انتظامیہ کے خلاف ایکشن لینا ہے جس نے یہاں موجود متاثرین کو کھانا نہیں پہنچایا، وزیر اعلیٰ بلوچستان عبد القدوس بزنجو نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ملوث افراد کے خلاف کارروائی کریں گے اور متاثرین کی بھرپور مدد کی جائے گی اور اس سلسلے میں پائی جانی والی تمام خامیوں اور کوتاہیوں کو دور کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب سے جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو وفاق کی جانب سے 10 لاکھ روپے دیے جارہے ہیں، آج بھی یہاں چیک تقسیم کیے جائیں گے، جن لوگوں کے مکان مکمل طور پر منہدم ہوگئے ہیں ان کو 5 لاکھ روپے اور جن کے گھروں کو جزوی نقصان ہوا ہے ان کو 2 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب سے تباہ ہونے والی فصلوں اور دیگر نقصانات کا جائزہ لینے کے بعد مزید متاثرین کی بھی مدد کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا سیلاب متاثرین کی بحالی چیلنج بڑا ہے جس کا مل کر مقابلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ بحالی اور امداد کے لیے این ایچ اے کی کوششیں لائق تحسین ہیں، میڈیکل کیمپ کا جال پھیلایا جائے، غیر معمولی بارشوں سے وسیع پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ قیمتی انسانی جانوں کے نقصان کےساتھ انفرااسٹرکچر تباہ ہوا، وفاق اور بلوچستان حکومت قومی جذبے سے بحالی اور آباد کاری کے لیے پرعزم ہیں، آخری گھر جب تک آباد نہیں ہوتا چین سے نہیں بیٹھیں گے، مخیر حضرات بھی متاثرین کی مدد کے لیے آگے آئیں۔

کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اس سلسلے میں، ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے کے لیے ایئر فورس اور نیوی کے ہیلی کاپٹرز بھی مہیا کیے جا رہے ہیں، پینے کے صاف پانی کے لیے ایم ڈی ایم نے 2 واٹر پلانٹ لگائے ہیں جو آئندہ ایک دو روز می فعال ہوجائیں گے جب کہ اس دوران متاثرین کے لیے بوٹل واٹر کا انتظام کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے این ڈی ایم اے کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ 24 گھنٹے کے دوران بارشوں کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین میں امدادی چیکس پورے پاکستان میں تقسیم کردیے جائیں اور اسی طرح جو لوگ زخمی ہیں ان کو فوری طور پر چیک فراہم کیے جائیں۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ یہاں دورے کے دوران کئی مسائل کی نشاندہی ہوئی، ہمیں بتایا گیا تھا کہ یہاں موجود لوگوں کو راشن فراہم کیا گیا ہے اور اگر راشن فراہم نہیں کیا گیا جیسا کہ لوگ کہہ رہے ہیں تو ان کے خلاف فوری کارروائی ہوگی اور تمام ذمہ دار افسران کو معطل کیا جائے گا۔

عبد القدوس بزنجو نے گفتگو کے دوران چیف سیکریٹری بلوچستان کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہ معاملے کی تحقیقات کریں اور غفلت کے ذمہ داران معطل ہیں اور ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ آج سے امدادی کیمپوں میں کھانا فراہم کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں