.

عمران خان کی پی ٹی آئی کا ممنوعہ فنڈنگ کیس؛کب، کیاہوا؟کتنی رقم کہاں سے آئی؟(2)

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایڈیٹرکا نوٹ: سوشل میڈیا پر نت روز نئے انکشافات ہوتے اور تحریری، تقریری، صوتی اور تصویری مواد کی شکل میں دنیا کی سیاست ومعاشرت کے خفیہ گوشے منظر عام پر آتے ہیں۔سوشل میڈیا میں بھی ٹویٹر اس وقت ابلاغ اور خبر رسانی کا تیز ترین ذریعہ بن چکا ہے۔امریکی صدر سے لے کر تیسری دنیا کے قائدین تک ٹویٹرپر ہی اپنے خیالات کا اظہار کرتے اور دنیا کو اپنی مصروفیات اورفیصلوں سے آگاہ کرتے ہیں۔یہ طاقتورمیڈیاآج رائے عامہ کو ہموار کرنے ،حکومتوں کو بنانے اورگرانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر بڑے میڈیا اداروں اور نامی صحافیوں کے اکاؤنٹس تو ہیں ہی،ان کے ساتھ ساتھ اہل علم وفن، معروف اورغیرمعروف سماجی وسیاسی شخصیات اور کارکنان بھی اپنے خیالات کااظہار کرتے ہیں۔ان کے پاس اگرکوئی خبر ہے تو وہ اسے مختصر یا تفصیل سے شیئر کرتے ہیں۔ان ہی میں سے ایک صاحب نے ٹویٹرپرپاکستان کی سابق حکمران جماعت تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مشہورزمانہ غیرملکی فنڈنگ کیس سے متعلق ہوشربا تفصیل لکھی ہے۔انھوں نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا لیکن ان کا اکاؤنٹ اس نام سے ہے: @OmniscientXo اپنی مختصرشناخت وہ یوں کراتے ہیں۔I'm back with an updated software.ساتھ تصویر کسی انگریز کی لگائی ہے اور اپنی اصل شناخت چھپائی ہے۔بہرکیف انھوں نے جو کچھ لکھا ہے،اس کا ترجمہ اورمزید تفصیل العربیہ اردوڈاٹ نیٹ کے قارئین کی نذر ہے۔اس کی دوسری اورآخری قسط ملاحظہ کیجیے:

الیکشن کمیشن پاکستان نے پی ٹی آئی کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ منگل کے روز سنا رہا ہے۔اس نے 21 جون کو ایک طویل اور صبرآزما سماعت کے بعد اس کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

اس کیس میں درخواست گزار پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر ہیں۔انھوں نے پاکستان اور بیرون ملک سے پارٹی کی فنڈنگ میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کا الزام لگایا تھا لیکن پی ٹی آئی نے کسی بھی غلط کام کی تردید کی تھی اور اس کا یہ مؤقف رہا ہے کہ فنڈنگ ممنوعہ ذرائع سے نہیں ہوئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے مارچ 2018 میں پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ کا ایک ماہ میں جائزہ لینے کے لیے اسکروٹنی کمیٹی کی تشکیل دی تھی۔اس نے بالآخر95 سماعتوں اور قریباً چارسال کے بعد چارجنوری کواپنی رپورٹ پیش کی تھی۔

بینک دولت پاکستان کے ذریعے طلب کردہ ریکارڈ کی آٹھ جلدوں پر مبنی اس رپورٹ نے ثابت کیا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے بھارتی شہریوں اوربیرونی کمپنیوں سمیت غیر ملکیوں سے بغیر کسی ذرائع اور تفصیل کے لاکھوں ڈالر اور اربوں روپے وصول کیے تھے اور انھیں وصولنے کی اجازت دے کر جماعتوں کے لیے عطیات جمع کرنے کے قوانین کی سراسر خلاف ورزیاں کی ہیں۔

رپورٹ میں پارٹی کی جانب سے بڑے لین دین کی تفصیل بتانے سے انکار کیا گیا تھا اور پی ٹی آئی کے غیرملکی اکاؤنٹس اور بیرون ملک جمع ہونے والے فنڈز کی تفصیل حاصل کرنے میں کمیٹی کی بے بسی کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔

اس نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے دست خط شدہ سرٹی فکیٹ پربھی سوال اٹھایا جو پی ٹی آئی کے آڈٹ کیے گئے حسابات کی تفصیل کے ساتھ جمع کرایا گیا تھا۔

قابل ذکربات یہ ہے کہ عارف نقوی کے ابراج گروپ کی دو کمپنیاں جومنی لانڈرنگ اور بدعنوانی کے لیے استعمال کی گئیں، عمران خان کے نام پررجسٹرڈ ہیں۔ان سے جب ایک صحافی نے اس بارے میں سوال کیا کہ کیا وہ ان کے شراکت دار ہیں تو اس کاجواب دینے سے انھوں نے صاف انکار کردیا۔

تھریڈمذکورمیں بیان کردہ تفصیل کے مطابق پی ٹی آئی کی پیش کردہ فہرست میں بیان کیا گیا ہے کہ 2013 میں مجموعی طور پر 1414 عطیہ دہندگان نے 467,320 ڈالر عطیہ کیے۔ صرف 27 فی صد نے بتایا کہ انھوں نے پی ٹی آئی کے لیے عطیہ دیا، باقی اس بات سے بے خبر تھے کہ ان کے فنڈز پارٹی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس کا ذکر نہیں، پی ٹی آئی نے امریکا کے محکمہ انصاف میں 30 ہزار سے زیادہ عطیہ دہندگان کی فہرست پیش کی تھی۔پی ٹی آئی کے بعض غیرملکی اکاؤنٹس کی مزید تفصیل یہ ہے:

1) اے این زیڈ آسٹریلیا اورنیوزی لینڈ بینکنگ گروپ لمیٹڈ کی جانب سے آسٹریلوی بزنس نمبر 45838549859 کے تحت انصاف آسٹریلیا انکارپوریٹڈ کے پاس بینک اکاؤنٹ نمبر 00102012397479527102سے پاکستان میں موصول ہونے والی رقم آسٹریلوی ڈالر35,200تھی۔
پی ٹی آئی برطانیہ کا رجسٹرڈ نمبر 07381036.
2) اکاؤنٹ نمبر 00191424
3) اکاؤنٹ نمبر 26675768۔

دلچسپ حقائق

1) کیا اسٹیٹ بینک سے برطانیہ کے اکاؤنٹس کا ڈیٹا چھپایا گیا؟

2) پی ٹی آئی کی جانب سے شیئر کی گئی تفصیل کے مطابق بیرون ملک 11,208 افراد نے 36 پاؤنڈ فی کس یعنی مجموعی طورپر403,488 پاؤنڈ ادا کیے۔ یہاں تک کہ فنڈزمیں ایک پاؤنڈ بھی نہیں؟

3) پی ٹی آئی کو ڈنمارک، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، سویڈن، سنگاپور، نیوزی لینڈ، ہانگ کانگ، فن لینڈ، آسٹریا، سعودی عرب اور ناروے سے مجموعی طورپر 73 لاکھ 22 ہزار (ڈالریاپاونڈ) کی رقم عطیات کی شکل میں ملی۔

پی ٹی آئی ہنڈی کے ذریعے’’رجسٹریشن فیس‘‘ کی مد میں سالانہ لاکھوں وصول کرتی رہی ہے۔ان کی تفصیل یہ ہے:

4) سعودی عرب: 226,240 ریال وصول ہوئے
5)سعودی عرب ہی سے مزید 694,000 ریال وصول ہوئے
6)متحدہ عرب امارات: 590,000 اماراتی درہم
7) کویت: 6,291 امریکی ڈالر
8) قطر: 5,940 امریکی ڈالر
9)بحرین: 918 امریکی ڈالر

برطانیہ میں پی ٹی آئی کی قیادت کا کہنا ہے کہ جماعت کو ہنڈی کے ذریعے سالانہ قریباً پانچ کروڑبیس لاکھ روپے وصول ہوتے ہیں، دنیا بھرمیں بیرون ملک سے پی ٹی آئی کو رقوم کی ادائی کرتی ہے۔ پی ٹی آئی کو موصول ہونے والی کل رقم کا تخمینہ 64 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ یہ سب رقم کہاں جہنم میں چلی گئی اور جارہی ہے؟

بہرکیف،اب مختصراً اہم کرداروں اور سازش پر بات کرتے ہیں۔

یہودی فنڈنگ ڈائریکٹری کے مطابق امریکی بیری سی شنپس اور امریکی نژاد ہندوستانی اندردوسانجھ سمیت غیر ملکی پی ٹی آئی کو ان کے حق اور مفادات میں لابنگ کے لیے مالی امداد مہیاکرتے رہے تھے۔سوال یہ ہے کہ ان کے لیے اس میں کیا خاص ہے؟ یا وہ 1992ء سے مداح تھے؟

آئیے نیویارک کے ایک یہودی وکیل بیری سی شنپس کے بارے میں بات کرتے ہیں۔چونکہ بیری ایک یہودی ہے اور عمران خان کے سابق سسرالی بھی یہودی تھے تو شاید یہی وجہ ہے؟ یا یہ حقیقت کہ انھوں نے پی ٹی آئی کے چند بیرون ملک رہنماؤں کی بطوراٹارنی نمایندگی کی لیکن یہاں کوئی سازش نہیں ہے۔ یہ سب کی توجہ ہٹانے کے لیے تھا۔

جولائی 2017ء میں پارٹی کی خواہش کے خلاف نوازشریف کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی)/عدالتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، 13 سوالات کے جوابات دیے جاتے ہیں اور جے آئی ٹی انھیں کسی بھی غلط کام سے پاک صاف کردیتی ہے لیکن بات یہیں پہ ختم نہیں ہوتی بلکہ 4 جولائی 2017 کو جبل علی فری زون اتھارٹی کا ایک تصدیق شدہ خط عمل میں آتا ہے اور انھیں نااہل قرار دیتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کا معاملہ یہ ہے کہ وہ کسی فرد کا ذاتی ڈیٹا کسی کے ساتھ شیئرنہیں کرتا،الّا یہ کہ یہ منشیات یا دہشت گردی کے کسی کیس کے بارے میں ہو۔ ویسے بھی شیخ نہیان بن مبارک آل نہیان نے (مبیّنہ طور پر) نوازشریف کی نااہلی میں سہولت فراہم کی تھی۔اس کے علاوہ شیخ نہیان پی ٹی آئی کے ابتدائی چند فنانسرز میں شامل تھے۔ شیخ نے پی ٹی آئی کو20 لاکھ ڈالر سے زیادہ کا عطیہ دیا تھا۔عمران خان کی تین سالہ حکومت کے دوران میں ان کی اور شیخ نہیان کی ملاقات کی تاریخیں یہ ہیں:

1)17 ستمبر 2018
2) 18 نومبر 2018
3)6 جنوری 2019
4)10فروری 1019
5) 27 دسمبر2019
6)یکم جنوری 2020
7)فروری 24 2020

اگرآپ آفیشل ویب سائٹ پر وزیراعظم کا کال لاگ چیک کرتے ہیں تو آپ کو شیخ اورعمران خان کے درمیان 20 سے زیادہ کالزکا ریکارڈ ملے گا۔

2017ء میں نوازشریف نے شیخ کو فون کرنے کی کوشش کی اور تاریخ میں پہلی بار متحدہ عرب امارات نے ان کی کالوں کا جواب نہیں دیا۔نوازشریف کیوں فون کررہے تھے؟ وہ یہ پوچھنا چاہتے تھے کہ کس اختیارکے تحت جھوٹی شہادت وضع کی گئی تھی۔

اگر آپ واپس جائیں اور پاناما/جے آئی ٹی کی رپورٹیں پڑھیں تو آپ کو کیا ملے گا؛
1) پاناما جے آئی ٹی کو وزیراعظم مجرم نہیں لگتے۔
2) نوازشریف کے وکیل نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزکو چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ کافی سازشوں سے یہ بات جان چکے تھے کہ تصادم سے بچنے کے لیے کب ہارمان لینی چاہیے کہ جس کی وجہ سے عدم استحکام ہوسکتا تھا۔

کیاعرب نوازشریف کو دو وجوہ کی بنا پر اقتدار سے باہر کرنا چاہتے تھے؟

1)10 اپریل 2015
نوازحکومت نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جنگ آزما سعودی عرب کی قیادت والے فوجی اتحاد میں عدم شمولیت کافیصلہ کیا۔
2)اپریل 2015

چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم نوازشریف نے پاکستان کی معیشت میں تبدیلی لانے اور معاشی وسماجی ترقی کے لیے 46 ارب ڈالر کے 51 معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔

مگر انھوں نے خاموشی سے یہ سوچ کروزارت عظمیٰ کا منصب چھوڑ دیا کہ وہ بعد میں عربوں سے ملاقات کریں گے اوران سے معاملہ حل کرے گا۔نوازشریف کااقتدار چھیننے کے بعد عربوں کی مرضی کے بارے میں اندازہ یہ تھا کہ وہ سب کچھ بھول جائیں گے لیکن انھیں احساس نہیں تھا کہ اس غیرملکی سازش کا حصہ دوم بھی ہے۔اس کے تحت کچھ ایسا کرنا تھا جو مشرف بھی نہیں کرسکے۔ وہ یہ کہ انھیں ختم کریں اور صرف سیاسی طور پرنہیں۔پھر انھیں بیرون ملک بھیج دیا گیا تھا۔

الیکشن کمیشن کیا فیصلہ سنارہا ہے،اس حوالے سے قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں لیکن اس تھریڈ کے لکھاری کے مطابق چند روز پہلے دبئی میں پانچ چھے لوگوں کے درمیان ملاقات ہوئی تھی تاکہ سب کچھ پرامن طریقے سے طے کیا جا سکے۔یہ منصوبہ بندی کے مطابق ہو گا۔ورنہ شاید 5-6 بدمعاشوں کو جیل بھیج دیا جائے گا لیکن ہزاروں دیگرلوگ بھی بری طرح متاثر ہوں گے۔ان میں زیادہ تر بیرون ملک بیٹھے سوشل میڈیا ٹیم سے وابستہ بچے ہیں۔’’یہ کوئی رومانوی تصور نہیں بلکہ قابل تصدیق حقائق ہیں‘‘۔
(ختم شد)

مقبول خبریں اہم خبریں