.

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرضلع لسبیلہ میں گرکرتباہ؛ کورکمانڈرکوئٹہ سمیت 6 افسرشہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان آرمی کا ایک ہیلی کاپٹرصوبہ بلوچستان میں سیلاب زدگان کے لیے امدادی سرگرمیوں کے دوران میں گرکرتباہ ہوگیا ہے۔اس ہیلی کاپٹرمیں سوار پاک آرمی کی 12 کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفرازعلی سمیت تمام چھے افسر اوراہلکار شہید ہوگئے ہیں۔

پاکستان کی مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)نے سوموار کی شب ایک ٹویٹ میں بتایا کہ آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹرکا بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں پرواز کے دوران میں ایئرٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر صوبے میں سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف تھا۔اس میں کورکمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفرازعلی کے علاوہ پاک فوج کے دوبریگیڈئیر اور دو میجر سوار تھے جو بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے تھے۔

آئی ایس پی آرنے منگل کو بتایا کہ گذشتہ شب بلوچستان میں لاپتا ہونے والے پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کا ملبہ ضلع لسبیلہ کے علاقے موسیٰ گوٹھ کے قریب سے مل گیا ہے۔اس نے بیان میں مزید کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثہ خراب موسم کی وجہ سے پیش آیا۔

اس افسوس ناک حادثے میں شہید ہونے والے دوسرے افسروں اور عملہ کے نام یہ ہیں:بریگیڈئیر امجد حنیف ڈائریکٹرجنرل کوسٹ گارڈ ، بریگیڈئیر محمد خالد کمانڈرکورانجنیئر12 کور،میجر سعیداحمد(پائیلٹ) ، میجرطلحہ منان(معاون پائیلٹ) اور نائیک مدثرفیاض۔

پاک آرمی کی 12 کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفرازعلی
پاک آرمی کی 12 کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفرازعلی

پولیس ذرائع کے مطابق جہاں ہیلی کاپٹرلاپتا ہوا،وہ دشوارگذارپہاڑی علاقہ تھا اوروہاں جیپ کے گذرنے کے راستے بھی نہیں تھے۔اس وجہ سے تلاش اورامدادی کارروائیوں میں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔’’اس علاقے میں آپ پیدل جاسکتے ہیں یا موٹرسائیکلوں پرجائیں یافضائی نگرانی کرسکتے ہیں‘‘۔ایک عہدہ دارکاکہنا تھا۔

لسبیلہ کے اس علاقے میں موبائل فون کی کوریج نہ ہونے کے برابر تھی اور بجلی بھی نہیں تھی۔ کہا جاتا ہے کہ پولیس نے سرچ آپریشن میں مدد کے لیے مقامی رضاکاروں کی خدمات حاصل کیں۔

اظہارِتعزیت

آئی ایس پی آر کے ایک ٹویٹ میں فوجی افسروں کی فرائض کی انجام دہی کے دوران میں شہادت پر گہرے دکھ اورغم کا اظہار کیا گیا ہے۔

صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے رابطہ کیا اور اعلیٰ افسروں اور ایک فوجی جوان کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔انھوں نے کہا کہ وہ قوم کی خدمت میں اپنا فرض پورا کرتے اورپوری تن دہی،محنت اور لگن کے ساتھ کام کرتے ہوئے شہید ہوئے ہیں۔

ٹیلی فونک گفتگو کے دوران میں جنرل باجوہ نے ڈاکٹر علوی کو بتایا کہ خراب موسم اور حد نگاہ میں کمی ہیلی کاپٹر حادثے کا سبب بنی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ٹویٹ کیا کہ لیفٹیننٹ جنرل سرفرازعلی اور پاک فوج کے پانچ دوسرے افسروں کی شہادت پر قوم کو شدید دکھ ہوا ہے۔انھوں نے کہا کہ وہ سیلاب سے متاثرہ افراد کوریلیف مہیا کرنے کا مقدس فریضہ ادا کر رہے تھے۔قوم ہمیشہ ’’مٹی کے بیٹوں‘‘کی مقروض رہے گی۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’’وہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز کو ذاتی طور پر جانتے ہیں۔انھیں میں نے ایک مکمل پیشہ ور اور ایک راست باز، ایماندار انسان پایا‘‘۔پاکستان پیپلز پارٹی اورملک کی دوسرے سیاسی قائدین اور جماعتوں نے بھی پاک فوج کے اعلیٰ افسروں کی شہادت پر گہرے دکھ اورافسوس کا اظہار کیا ہے۔

بلوچستان کے سیلاب زدہ اضلاع میں کئی ہفتوں سےپاک فوج کے جوان ہیلی کاپٹروں کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ پاک فوج کے علاوہ فرنٹیئرکوراور پاک بحریہ کے اہلکار بھی صوبے میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد امدادی کارروائیاں کر رہی ہیں۔سیلاب کے نتیجے میں 132 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔

ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کی تازہ رپورٹ کے مطابق لسبیلہ میں سیلاب سے متعدد سڑکیں اور پل بہ گئے جن کے نتیجے میں لسبیلہ کا صوبہ سندھ سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

اس سے قبل وزیراعظم شہبازشریف نے بھی بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں قلعہ سیف اللہ، چمن اور کوئٹہ کا دورہ کیا اور وہاں سیلاب سے بے گھر ہونے والے افراد سے ملاقات کی ،ان کے مسائل سنے اورحکام کو انھیں حل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں