.

پی ٹی آئی پر ممنوعہ فنڈنگ ثابت، الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا

چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان نے جھوٹا سرٹیفیکٹ جمع کرایا۔: الیکشن کمیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریکِ انصاف کو غیر ملکیوں سے ملنے والا فنڈز ممنوعہ قرار دے دیے اور اس پر پارٹی کو شو کاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے منگل کو پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا۔

کمیشن نے قرار دیا ’’کہ پی ٹی آئی کو برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ سے آنے والا فنڈ غیر ملکی کمپنیوں سے ملا تھا۔‘‘ کمیشن کے مطابق ’’پی ٹی آئی نے آٹھ اکاؤنٹس تسلیم کیے لیکن اس جماعت کے مزید 13 اکاؤنٹس بھی ملے۔‘‘ الیکشن کمیشن نے قرار دیا ’’کہ چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان نے جھوٹا سرٹیفکٹ جمع کرایا۔‘‘

درخواست گذار اکبر ایس بابر

ممنوعہ فنڈنگ کیس کے درخواست تحریکِ انصاف کے بانی رہنماؤں میں شامل اکبر ایس بابر نے قیادت سے اختلافات کے بعد اپنی ہی جماعت کے خلاف 2014 میں پارٹی فنڈنگ سے متعلق الیکشن کمیشن سے رجوع کیا تھا۔

انہوں نے الیکشن کمیشن کے باہر پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ آج الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی پر فرد جرم عائد کر دی ہے اور تمام الزامات ثابت ہو گئے ہیں۔

اکبر ایس بابر نے عمران خان کے پارٹی قیادت سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پی ٹی آئی میں رجیم چینج ہو اور پارٹی نظریاتی کارکنوں کے حوالے کی جائے۔

ان کے مطابق الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد دیگر سیاسی جماعتوں پر بھی دباؤ بڑھے گا، سیاسی جماعتوں میں بادشاہت ختم ہوگی اور ملک کو اچھی قیادت میسر آئے گی۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ الیکشن کمیشن دیگر سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ سے متعلق بھی جلد فیصلہ کرے گا۔

تحریک انصاف کا ردعمل

الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب نے کہا کہ جو لوگ غیر ملکی فنڈںگ کے بیانیے کو آگے بڑھاتے رہے آج انہیں مایوسی ہوئی ہے۔ شروع دن سے ہمارا مؤقف رہا ہے کہ یہ کیس فارن فنڈنگ کا نہیں بلکہ ممنوعہ فنڈنگ کا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کیس میں کسی قسم کی فارن فنڈنگ ثابت نہیں ہوئی۔

پی ٹی آئی رہنما ملیکہ بخاری نے الیکشن کمیشن پر جانبدار ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن نے ایک ہی جماعت پر الیکشن ایکٹ 2017 لاگو کیا اور ایک ہی جماعت کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں شامل جماعتوں کی فنڈنگ کے ذرائع بھی بتائیں۔ یہ سب چیزیں قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے تھیں لیکن ہمارے ساتھ برابری کی سطح پر برتاؤ نہیں ہوا۔

تحریکِ انصاف کا مؤقف رہا ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے خلاف بھی اسی نوعیت کے کیسز الیکشن کمیشن میں زیرِ التوا ہیں لیکن ان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے۔

چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ پر متعصب ہونے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں جب کہ پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس دائر کرنےکا بھی فیصلہ کیا ہے۔

پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اُڑا دی ہیں جب کہ الیکشن کمیشن سیاسی فریق بن چکا ہے جو کسی صورتِ قابل قبول نہیں۔ الیکشن کمشن ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر چکا ہے۔

مقدمے کا پس منظر

الیکشن کمیشن نے آٹھ برس پرانے کیس کا فیصلہ صبح دس بجے سنانے کا اعلان کیا تھا۔ کمیشن نے یہ فیصلہ 21 جون کو محفوظ کیا تھا۔

الیکشن کمیشن کے فیصلے سے قبل اسلام آباد کے ریڈ زون میں سکیورٹی ہائی الرٹ تھی۔ ایکسپریس چوک اور نادرا چوک سے ریڈ زون میں داخلہ بند رہا جب کہ چیف الیکشن کمشنر کی سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کی ہدایت کی گئی تھی۔ ریڈ زون میں سیاسی جماعتوں کے کارکنان کو داخلے کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں