.

پاکستان نے غزہ پراسرائیلی فوج کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کردی

اسرائیلی بمباری میں کم سن بچّی سمیت متعدد فلسطینیوں کی شہادت پرگہرے دکھ اورافسوس کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان نے غزہ پراسرائیل کے فضائی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اورعالمی برادری سے اس جارحیت کو رکوانے کا مطالبہ کیا ہے۔اس نے صہیونی فوج کی بمباری کے نتیجے میں ایک پانچ سالہ بچّی سمیت متعدد فلسطینیوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے جمعہ کوغزہ پر فضائی حملوں میں 15 افراد شہید ہوگئے تھے۔ابتدائی حملوں کے بعد غزہ شہر میں واقع ایک عمارت سے آگ کے شعلے بھڑک اٹھے تھے اور اس کے ملبے سے متعدد زخمی فلسطینیوں کو نکالا گیا تھا۔

غزہ میں حماس کے تحت وزارت صحت نے خبر دی ہے کہ شہید ہونے والے نوافراد میں ایک ’’پانچ سالہ بچی بھی شامل ہے۔اسے اسرائیلی قبضے نے نشانہ بنایا ہے‘‘۔ وزارت نے بتایاکہ پہلے دن حملوں میں 55 فلسطینی زخمی ہوئے تھی۔

اس کم سن بچی علاء قدوم کے بالوں میں گلابی کمان اور ماتھے پر زخم تھا۔جنازگاہ میں تدفین کے لیے لے جاتے ہوئے اس کی میّت اس کے والد نے اٹھا رکھی تھی۔

وزیراعظم شہبازشریف نے ننھی قدوم کی شہادت کو’’اسرائیلی دہشت گردی‘‘قراردیا ہے۔انھوں نے ٹویٹ کیا کہ اگر سفاکیت کا کوئی چہرہ ہوتا تو یہ اسرائیل کا ہوتا جس نے نتائج کی پروا کیے بغیر فلسطینیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

پاکستان کے دفترخارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کہ اسرائیلی فوج کی غزہ پر جارحیت کا تازہ سلسلہ بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی قوانین کی مکمل خلاف ورزی ہے اور یہ گذشتہ کئی دہائیوں سے بے گناہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی مظالم، غیر قانونی اقدامات اور طاقت کے اندھادھند استعمال ہی کا تسلسل ہے۔

دفترخارجہ نے عالمی برادری پرزوردیا کیا کہ وہ اسرائیل سے’طاقت کے کھلم کھلا اوربے دریغ استعمال اورانسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیوں کےفوری خاتمے کا مطالبہ کرے۔اس کا کہنا تھا کہ جارحیت کوفوری طور پرروکنا’’ناگزیر‘‘ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم1967 کی جنگ سے پہلے کی سرحدوں میں ایک قابل عمل، آزاد اورمتصل فلسطینی ریاست کے مطالبے کی تجدیدکرتے ہیں، القدس الشریف جس کا دارالحکومت ہو۔اقوام متحدہ اور او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق فلسطینی مسئلہ کا یہی واحد اور مبنی برانصاف جامع اور پائیدار حل ہے۔

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے غزہ پر بدترین اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مظلوم فلسطینیوں اور بچّوں کی شہادتیں اسرائیل اور اس کے پشت پناہوں کے چہروں پر ایک اور بدنما داغ ہیں۔فلسطینی مسلمانوں کی ان یہودی جابروں اور ظالموں کے خلاف لازوال قربانیاں ضرور ایک روشن صبح کو جنم دیں گی۔

حزبِ اختلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے بھی غزہ پر اسرائیلی فوج کے حملوں کی مذمت کی اور عالمی طاقتوں سے اسرائیل کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اسرائیل نے جمعہ کو غزہ میں فلسطینی مزاحمتی گروپ جہادِاسلامی کے خلاف کارروائی کے نام پر فضائی بمباری کاآغاز کیا تھا۔اسرائیل نے کہا کہ اس نے چوکیوں پر راکٹ داغنے کی تیاری کرنے والے جہادِاسلامی کے جنگجوؤں پر حملہ کیا تھا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بمباری میں پانچ مکانات کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں غزہ شہرمیں دھماکوں کے نتیجے میں دھویں کے بڑے بادل اورآگ کے شعلے آسمان کی طرف بلند ہورہے تھے۔

دوسری جانب جہاد اسلامی نے کہا ہے کہ اس نے راکٹ حملے میں اسرائیل کی مرکزی بین الاقوامی گذرگاہ بن گورین ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا تھا لیکن راکٹ قریباً 20 کلومیٹردور گراہے جبکہ اسرائیل کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈا معمول کے مطابق کام کررہا ہے اورپروازوں کے راستوں کوازسرنو ایڈجسٹ کیا گیا ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں 14 فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ان میں جہادِاسلامی کے چارارکان اور ایک بچہ شامل ہے اور کم از کم 110 افراد زخمی ہوئے ہیں۔تاہم اس تنظیم نے خود اس حوالے سے تفصیل فراہم نہیں کی کہ اس کے کتنے ارکان مارے گئے ہیں۔اس نے فوری جنگ بندی نہ کرنے کا بھی اشارہ دیا ہے۔ گروپ کے ایک عہدہ دار نے رائٹرز کو بتایا کہ اب وقت مزاحمت کا ہے نہ کہ جنگ بندی کا۔

اسرائیلی فوج نے قبل ازیں کہا کہ اس نے رات بھرغزہ میں فلسطینی گروپ کی راکٹ سازی کی جگہوں اورراکٹ لانچروں کو نشانہ بنایا تھا اور اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے میں چھاپامار کارروائیوں میں جہادِاسلامی کے 19 ارکان کو گرفتار کرلیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں