افغانستان:30لاکھ ڈالرسرکی قیمت والاپاکستانی جنگجو عمرخالدخراسانی بم دھماکے میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

تین عسکریت پسند کمانڈروں اور ایک انٹیلی جنس عہدہ دار نے پیرکے روزاطلاع دی ہے کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والا ایک سرکردہ جنگجو ہمسایہ ملک افغانستان میں اپنے تین ساتھیوں سمیت بم دھماکے میں ہلاک ہو گیا ہے۔امریکا نے اس کے سرکی قیمت 30 لاکھ ڈالر مقررکررکھی تھی۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ عبدالولی المعروف عمر خالد خراسانی کی ہلاکت سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)اور پاکستانی حکومت کے درمیان نوزائیدہ امن مذاکرات کو دھچکا پہنچ سکتا ہے۔کابل میں طالبان حکمرانوں نے حال ہی میں ان ملاقاتوں میں سہولت کارکا کردار ادا کیا تھا۔

ذرائع نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پربرطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کوبتایا کہ خالد خراسانی اور اس کے معاونین اتوار کے روز جنوب مشرقی صوبہ پکتیکا میں بم دھماکے میں ہلاک ہوئے ہیں۔وہ ضلع برمل میں ایک کار میں سفرکررہے تھے۔اس دوران میں سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے میں ان کی کار تباہ ہوگئی۔ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ اس حملے کے پیچھے ان کے خیال میں کس کا ہاتھ کارفرما ہوسکتا ہے۔

ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک ٹویٹ میں خالدخراسانی کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ اب ہمارے ساتھ نہیں رہاہے‘‘۔

خراسانی ٹی ٹی پی کی شاخ جماعت الاحرار (جے یو اے) کا سربراہ تھا۔اقوام متحدہ اورامریکا نے اس کو دہشت گرد گروہ قراردے رکھا ہے۔امریکا نے خراسانی کو پکڑنے یا ہلاکت میں معاون اطلاع فراہم کرنے والے کو تیس لاکھ ڈالر انعام کے طورپردینے کی پیش کش کی تھی۔

افغانستان میں اس سینیرپاکستانی جنگجو کی ہلاکت کی اطلاعات سے چند روز قبل ہی امریکا نے یہ اعلان کیا تھاکہ اس نے کابل میں واقع ایک گیسٹ ہاؤس پر حملے میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو ہلاک کر دیا ہے۔

کابل میں طالبان حکومت اور پاکستان میں فوج اور دفترخارجہ نے کالعدم ٹی ٹی پی کے سرکردہ کمانڈر کی ہلاکت پرتبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا جبکہ کالعدم ٹی ٹی پی نے موت کی تصدیق کیے بغیر کہا کہ وہ اس بارے میں ایک تفصیلی بیان جاری کرے گی۔

خالد خراسانی کے گروپ نے پاکستان میں پولیس، فوج، اقلیتی اہل تشیع اور عیسائیوں کے خلاف متعدد حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔گذشتہ برسوں میں دہشت گردی کے ان واقعات میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے دیگرتین جنگجوؤں میں سے ایک مفتی حسن تھا۔پاکستانی حکام کے مطابق وہ سخت گیرجنگجو گروپ داعش کے لیے کام کرتا تھا اور تنظیم کا ایک سینیرکمانڈر تھا۔ایک اورمہلوک کا نام حافظ دولت خان بتایا گیا ہے۔

پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ عمرخالد خراسانی ماضی میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کے مخالف کے طور پر جانے جاتے تھے،مگر وہ ٹی ٹی پی کے ان رہ نماؤں میں شامل تھے جنھوں نے حال ہی میں پاکستان سے جانے والے سرکردہ علماء کے وفد کے ساتھ کابل میں امن مذاکرات میں شرکت کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں