امریکا سے ٹرمپ جیسی دوستی چاہتا ہوں، غلامی نہیں: عمران خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں کسی ملک کا مخالف نہیں، امریکا سے دوستی چاہتا ہوں، غلامی نہیں، موجودہ حکومت کے خاتمے اور الیکشن تک جدوجہد جاری رکھتے ہوئے عوام میں جاؤں گا۔

ہاکی اسٹیڈیم لاہور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے کہا کہ قائد اعظم نے کہا تھا ہم انگریز کی غلامی سے نکل کر ہندوؤں کی غلامی میں نہیں جانا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ غلامی کی 4 قسمیں ہیں، جس میں ذہنی غلامی بھی شامل ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ مغرب کے لوگ جب آپ ان کی چمچہ گیری کریں گے تو وہ آپ کی عزت نہیں کریں گے لیکن اگر اپنے ملک کے مفادات کے لیے کھڑے ہوں گے تو ان کو اچھا نہیں لگے گا تاہم وہ آپ کی عزت کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر دفاع کہہ رہا ہے امریکا نے ہمیں وینٹی لیٹر پر رکھا ہوا ہے، جب چاہیں کھینچ لے اور ہم مرجائیں گے تو اس نوبت تک کون لے کر آیا۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ سے میرے تعلقات ٹھیک تھے، جب میں واشنگٹن گیا تو جس طرح پروٹوکول اس نے مجھے دیا اس سے پہلے کون سے پاکستانی وزیراعظم کو دیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ سازش کا منصوبہ بنایا ہے کہ عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن میں توشہ خانہ اور ممنوعہ فنڈنگ کا کیس بناؤ اور کسی طرح نااہل کرکے ادھر سے نواز شریف کو بلاؤ اور پھر کہو عمران خان کو لڑنے دیں گے اور نواز شریف پر پابندی ہٹادو۔

ان کا کہنا تھا کہ جو بھی یہ سازش کر رہا ہے کان کھول کر سن لو عمران خان کوئی ڈیل نہیں کرنے لگا، میرا مقابلہ اس ڈاکو سے نہ کرو۔ انہوں نے کہا کہ سازش یہ ہے کہ نواز شریف کو ستمبر کے آخر میں لانے کی کوشش ہے، نواز شریف فکر نہیں کرو میں تمہارا بہت اچھی طرح استقبال کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سازشیوں کے ساتھ مل کر اندرونی میر جعفر اور میر صادق اب کیا سازش کر رہے ہیں، لوگوں کے اوپر خوف طاری کرنے کی کوشش کی، 25 مئی کو لوگوں کو ڈرایا اور 3 لوگ شہید ہوئے لیکن جب پنجاب کا ضمنی الیکشن ہوا تو دھاندلی کے باوجود ہم نے ان کو شکست دی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے بھی خوف ناک چیز یہ ہے کہ ہماری عدلیہ کو تقسیم کرنے کی سازش چل رہی ہے تاکہ عدلیہ سے مرضی کے فیصلے لیے جائیں، میڈیا کا منہ بند کرو، عدالتوں کو تقسیم کرو، ملک میں خوف پھیلاؤ اور چوروں کو ہمارے اوپر مسلط کرو جو بیرونی ایجنڈا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ اس سے بھی خوف ناک گیم چل رہی ہے کہ عمران خان اور فوج کے بیچ میں ، تحریک انصاف اور فوج کے آپس میں لڑائی کروائی جائے اور آمنا سامنا کروایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے میں چاہوں کہ ملک کی فوج کمزور ہو، ملک میں مسائل ہیں اور میں کیوں چاہوں گا کہ فوج کمزور ہو۔

رات کے 12 بجتے ہی جلسے میں آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا اور چیئرمین پی ٹی آئی نے تقریر روک کر مناظر سے محظوظ ہوئے، جس کے بعد اپنی تقریر جاری رکھی۔ عمران خان نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں آج پہلی مرتبہ سب سے اچھا 14 اگست منایا اور میرا دل کہہ رہا ہے اگلا 14 اگست ہم اپنی حقیقی آزادی لے چکے ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں