اسلام آباد:عمران خان کےخلاف تقریرمیں پولیس،عدلیہ کودہشت زدہ کرنے پرمقدمہ درج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اورسابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 (دہشت گردی کی کارروائیوں کی سزا) کے تحت پولیس اورعدلیہ کو دہشت زدہ کرنے اورڈرانے دھمکانے پرمقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

اسلام آباد کے مارگلہ پولیس اسٹیشن میں عمران خان کے خلاف ابتدائی اطلاعاتی رپورٹ (ایف آئی آر) مجسٹریٹ علی جاوید کی شکایت پرہفتے کی رات 10 بجے درج کی گئی تھی۔ایف آئی آرمیں کہا گیا ہے کہ ایف نائن پارک میں پی ٹی آئی کی ریلی سے عمران خان نے اپنے خطاب میں پولیس کے اعلیٰ عہدے داروں اورایک معززخاتون ایڈیشنل سیشن جج کو دہشت زدہ کیا اور دھمکیاں دی تھیں۔

عمران خان نے اسلام آباد کے انسپکٹرجنرل پولیس اورڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کے خلاف مقدمات درج کرنے کی دھمکی دی تھی اور کہا تھا:’’ہم آپ کو نہیں چھوڑیں گے‘‘۔

انھوں نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زیبا چودھری کو بھی نام لے کردھمکی دی تھی اور کہاتھا کہ انھیں ’’خود کوتیارکرنا چاہیے کیونکہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی‘‘۔انھوں نے دارالحکومت پولیس کی درخواست پر عمران خان کے چیف آف اسٹاف شہبازگل کے دو روزہ جسمانی ریمانڈ کی منظوری دی تھی۔

ایف آئی آر میں مؤقف اختیارکیا گیا کہ عمران کی تقریرکا مقصد پولیس کے اعلیٰ عہدے داروں اور عدلیہ کو’’دہشت زدہ‘‘ کرنا تھا تاکہ وہ اپنے فرائض انجام نہ دے سکیں اورضرورت پڑنے پر پی ٹی آئی سے متعلق کسی بھی فرد کے خلاف کسی بھی کارروائی سے گریزنہ کرسکیں۔

مجسٹریٹ نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیارکیا ہے کہ عمران کی تقریر سے پولیس، ججوں اورقوم میں خوف اورغیریقینی صورت حال پھیل گئی ہے۔دہشت گردی پھیلائی گئی ہے جس سے ملک کے امن کو نقصان پہنچا ہے۔ایف آئی آر میں درخواست کی گئی ہے کہ عمران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائےاورمثالی سزادی جائے۔

حکومت کی قانونی مشاورت

ایف آئی آر کی اطلاع منظرعام پر آنے سے قبل وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ نے کہا تھا کہ حکومت اس بارے میں قانونی مشاورت کر رہی ہے کہ آیا پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے خلاف ان کی ’’اشتعال انگیزتقریر‘‘پرالگ سے مقدمہ درج کیا جائے یا انھیں ایک گذشتہ مقدمےہی میں نامزد کیا جائے۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں وزیرموصوف نے کہا کہ عمران خان اداروں کو مبینہ طور پر دھمکیاں دے رہے ہیں اور افسروں کو اپنے فرائضِ منصبی انجام دینے سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔

وزیر موصوف نے وضاحت کی کہ لسبیلہ واقعے کے بعد ایک مہم برپا گئی جب چھے فوجی افسرشہید ہوئے تھے،اس واقعہ کے بعد شہبازگل نے فوج کی صفوں کو اپنی اعلیٰ کمان کے خلاف اکسانے کی کوشش کی اور پھر عمران خان نے ایک خاتون جج اور پولیس حکام کو قانون کے مطابق اپنے فرائض انجام دینے پرانتقامی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

عمران خان نے ایک روزقبل ایک ریلی میں دعویٰ کیا تھا کہ اسلام آباد پولیس ان کی پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف ’’کسی‘‘سے کارروائی کے احکامات لے رہی ہے۔انھوں نے ہفتے کے روزگل پرمبیّنہ تشدد کے خلاف سپریم کورٹ جانے کے منصوبے کااعلان کیا اورریلی کے شرکاء سے کہاکہ جب میں نے پولیس سے کہا کہ آپ نے شہباز گل کے ساتھ کیا کیا تو انھوں نے کہا کہ 'ہم نے کچھ نہیں کیا، ہمیں احکامات پر عمل کیا ہے‘‘۔

عمران خان نے عدلیہ کو اپنی پارٹی کے بارے میں اس کے ’’متعصبانہ‘‘ رویّے کے خلاف بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسے اس کے نتائج کے لیے خودکو تیاررکھنا چاہیے۔

راناثناءاللہ نے مزید کہا کہ ان کی وزارت نے ایک رپورٹ تیار کی ہے اور وہ اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل اور وزارت قانون نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے اورحتمی فیصلے تک پہنچنے میں ایک دو دن لگیں گے۔

انھوں نے ایک بارپھر پی ٹی آئی کی جانب سے شہبازگل کو حراست کے دوران میں تشدد کا نشانہ بنانے کے دعووں پرالزام عاید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ گل نے اب تک درخواست کیوں دائر نہیں کی یا کسی عہدہ دار کا نام کیوں نہیں لیا جس نے مبیّنہ طور پر اسے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ سب ڈراما صرف اے آر وائی نیوز پر ان کے ریاست مخالف بیان اور لسبیلہ واقعہ پر مہم سے توجہ ہٹانے کے لیے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں