دہشت گردی کا مقدمہ: عمران خان نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

تحریک انصاف پاکستان کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمے میں ضمانت قبل از وقت گرفتاری کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کر دی گئی ہے۔

پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کے وکلا بابر اعوان اور فیصل چودھری کی وساطت سے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی گئی۔

عمران خان کی گرفتاری کا امکان، پی ٹی آئی کارکن بنی گالہ کے باہر جمع
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے بعد متوقع گرفتاری کے پیش نظر پارٹی کارکنان کی بڑی تعداد رات سے بنی گالہ میں موجود ہے۔

کارکنان نے عمران خان کی گرفتاری کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے ان کی سکیورٹی کے لیے بنی گالہ کے باہر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں جبکہ سنیچر کو ان کے خلاف مقدمے کے اندراج کے بعد لاہور اور دیگر شہروں میں بھی پی ٹی آئی کے کارکن باہر نکل آئے اور احتجاج کیا۔

سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف پولیس کے اعلیٰ افسران اور ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کو ’ڈرانے اور دھمکانے‘ پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

مقدمہ تھانہ مارگلہ میں مجسٹریٹ صدر اسلام آباد علی جاوید کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق شہباز گل کی گرفتاری کے خلاف تحریک انصاف کی ایک ریلی زیرو پوائنٹ سے ایف نائن پارک نکالی گئی جس کی قیادت عمران خان نے کی۔ ایف نائن پارک میں منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے اچانک پولیس افسران اور ایڈیشنل سیشن جج کو ڈرانا اور دھمکانا شروع کر دیا۔

ایف آئی آر میں عمران خان کے خطاب کا متن بھی شامل کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں