آوارہ کتوں کے حملے میں لیہ میں خاتون پولیو ورکر زخمی ہو گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جنوبی پنجاب کے ضلع لیہ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے سے خاتون پولیو ورکر زخمی ہو گئیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون پولیو ورکر لیہ کی تحصیل چوک اعظم میں بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلا رہی تھی کہ آوارہ کتوں نے اچانک حملہ کر کے اسے کاٹ لیا۔

ریسکیو ذرائع کا بتانا ہے کہ زخمی پولیو ہیلتھ ورکر کو طبی امداد کے بعد گھر منتقل کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کے پاس آوارہ کتوں کو مارنے والی دوا نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

میونسپل کمیٹی لیہ کا کہنا ہے کہ متعدد بار انتظامیہ کو درخواستیں دیں لیکن دوا فراہم نہیں کی جا رہی۔

پولیو کیسز

پاکستان دنیا کے ان صرف دو ممالک میں سے ایک ہے، جہاں پولیو کی بیماری کا ابھی تک خاتمہ نہیں ہو سکا۔ ان میں سے پاکستان کے علاوہ دوسرا ہمسایہ ملک افغانستان ہے۔

پاکستان میں گزشتہ تقریباﹰ ایک دہائی کے دوران سالانہ بنیادوں پر سب سے زیادہ نئے پولیو کیسز 2014ء میں دیکھنے میں آئے تھے، جن کی تعداد 306 رہی تھی۔ اس کے بعد سے یہ تعداد ہر سال مسلسل کم ہوتی گئی تھی۔

پھر ماضی قریب میں تقریباﹰ ایک سال سے بھی زیادہ عرصے تک کوئی ایک بھی نیا کیس رجسٹر نہ کیا گیا اور سال رواں کے دوران اب تک پاکستان میں پولیو کے دس نئے کیس رجسٹر کیے جا چکے ہیں۔

انتہا پسندوں کی کارروائیاں

یاد رہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے القاعدہ نیٹ ورک یا مقامی طالبان سے قربت رکھنے والے عسکریت پسندوں کی طرف سے انسداد پولیو کی مہم کے ارکان پر خونریز حملے بار بار دیکھنے میں آتے ہیں۔ ایسے حملوں میں اب تک درجنوں پولیو کارکن اور اس کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

پولیو ٹیموں پر حملے کیوں؟

خاص طور پر بچوں کو متاثر کرنے اور انہیں عمر بھر کے لیے جسمانی طور پر معذور بنا دینے والی اس بیماری کے خلاف ویکسی نیشن کرنے والے کارکنوں پر عسکریت پسندوں کی طرف سے حملے اس لیے کیے جاتے ہیں کہ ایسے شدت پسند عناصر کے مطابق یہ پولیو ٹیمیں 'جاسوسی‘ کرتی ہیں اور بچوں کو ویکسین پلا کر ان کی 'افزائش نسل کی جسمانی اہلیت‘ کو مبینہ طور پر ختم کر دیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں